ساہیوال: سی ٹی ڈی کی مشکوک کارروائی میں دو خواتین سمیت چار افراد جاں بحق

 

ساہیوال (پبلک نیوز) انسدادِ دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی جانب سے ساہیوال جی ٹی روڈ پر اڈا قادر کے علاقہ میں مبینہ فائرنگ سے دو خواتین سمیت چار افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ گاڑی سے تین بچوں کو بازیاب کرایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سی ٹی ڈی کا مبینہ مقابلہ مزید مشکوک ہو گیا۔ ساہیوال جی ٹی روڈ پر سی ٹی ڈی کی مبینہ فائرنگ سے دو خواتین سمیت چار افراد جاں بحق ہو گئے۔ سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ گاڑی سے تین بچوں کو بازیاب کرایا گیا۔

 

 

سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری بیان کے بعد معاملہ مزید الجھ گیا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ذیشان ساہیوال میں مارا گیا اور عبدالحفیظ فیصل آباد میں۔ شاہد جبار اور عبدالرحمٰن فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردوں کا تعلق داعش سے ہے اور یہ لوگ ملتان میں حساس ادارے کے 3 افسروں کے قتل میں ملوث تھے۔ دہشت گرد یوسف رضا گیلانی کے بیٹے اور امریکی شہری کے اغوا میں بھی ملوث تھے۔ دہشت گردوں نے بچنے کے لیے فیملی کا سہارا لیا ہوا تھا۔

 

 

اہل علاقہ کے مطابق بچوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کے والدین کو مارا۔ سی ٹی ڈی کے مطابق گاڑی روکنے پر گاڑی میں سوار افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جبکہ عینی شاہدین کے مطابق گاڑی میں سوار افراد کی جانب سے کوئی فائرنگ نہیں ہوئی، گاڑی میں فیملی سوار تھی۔

مقتول خلیل اور ان کی اہلیہ نبیلہ

وزیراعظم کا معاملہ کا نوٹس

وزیراعظم عمران خان نے بھی معاملے کا نوٹس لے لیا ہے۔ انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب نے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) ساہیوال سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

فواد چودھری کا ٹویٹ

فواد چودھری کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت معاملے پر تفصیلی بات کریں گے۔ لگتا ہے ساہیوال واقعہ میں ہلاک ہونے والے دہشتگرد تھے۔ جنہوں نے انسانی ڈھال استعمال کی۔

 

 

بچ جانے والے بچے کا بیان

زخمی بچے عمیر کا کہنا ہے کہ اس کی ماں کا نام نبیلہ اور والد کا نام خلیل ہے۔ پیسے لے لو گولی نہ مارو۔ پاپا کے دوست بھی ساتھ تھے۔ ہم بچ گئے جو مر گئے انہیں گاڑی میں رکھ دیا۔ پھر وہ لوگ واپس آ کر ہمیں ہسپتال لے آئے۔

احمد علی کیف  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں