گورودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقام

لاہور(پبلک نیوز) کرتارپور میں واقع دربار صاحب گرودوارہ کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند کلومیٹر کا ہی ہے اور نارووال ضلع کی حدود میں واقع اس گرودوارہ تک پہنچنے میں لاہور سے 130 کلومیٹر اور تقریباً تین گھنٹے ہی لگتے ہیں لیکن پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدہ تعلقات کی تاریخ نے اس سفر کو مزید طویل بنا رکھا ہے۔

 

تحصیل شکرگڑھ میں واقع سکھوں کا یہ مقدس مقام پاکستان اور انڈیا کے درمیان آج کل خبروں کا مرکز بنا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی تقریبِ حلف برداری میں آرمی چیف نے سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سدھو سے کرتارپور بارڈر کھلونے کی بات کر کے بھارت میں موجود کروڑوں سکھوں کی خواہش پوری کر دی۔ کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔ یہیں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہیں۔

 

 

گورودوارہ تحصیل شکر گڑھ ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹھے پنڈ میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے، راوی کے مشرقی جانب بھارتی سرحد ہے۔ گرودوارہ دربار صاحب کرتار پور اپنی نوعیت کا ایک منفرد مقام ہے۔ پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس یہ سرحد کے قریب ایک دور دراز گاؤں میں ہے۔

 

پکی سڑک یعنی شکر گڑھ روڈ سے نیچے اُترتے ہی ایک دلفریب منظر آپ کا منتظر ہوتا ہے۔ سرسبز کھیت آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں، پگڈنڈیوں پر بھاگتے دوڑتے بچے اور ریگتی بیل گاڑیاں، دور درختوں کی چھاؤں میں چلتے ٹیوب ویلز اور کھیتوں کے بیچوں بیچ ایک سفید عمارت۔ دھان کی فصل اور پرسکون دیہی ماحول میں گردوارے کی سنگِ مرمر کی عمارت دور سے نیلے آسمان تلے لہلاتے کھیتوں میں بیٹھے کسی سفید پرندے کی مانند دکھائی دیتی ہے۔

 

یہاں سے کھیتوں میں سے گزرتے ہوئے گردوارے تک کا سفر ایک خوشگوار تازگی کا احساس دلاتی ہے۔ گرودوارے کی عمارت کے باہر ایک کنواں ہے، جسے گرو نانک دیو سے منسوب کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں سکھوں کا عقیدہ ہے کہ یہ گرو نانک کے زیر استعمال رہا، اسی مناسبت سے اسے 'سری کُھو صاحب' کہا جاتا ہے۔

 

گورودوارے کے داخلی دروازے کے باہر سر ڈھانپنے کے بارے میں ہدایت درج ہے اور ملک کے دیگر گوردواروں کی طرح یہاں داخل ہونے کے لیے آپ کی مذہبی شناخت نہیں پوچھی جاتی۔ گوردوارے کے خدمت گاروں میں سکھ اور مسلمان دونوں شامل ہیں اور ہر آنے والے کے لیے یہاں لنگر کا بھی اہتمام ہے۔ مقامی افراد کے مطابق یہاں مسلمان باقاعدگی سے فاتحہ خوانی کے لیے آتے ہیں۔ بابا گرو نانک کو مقامی مسلمان افراد ایک برگزیدہ ہستی کا درجہ دیتے ہیں جبکہ سکھ انھیں سکھ مذہب کا بانی سمجھتے ہیں۔

 

سرحد کے دوسری جانب سکھ یاتری گورودوارہ دربار صاحب کو دیکھنے کے لیے دوربینوں کا استعمال کرتے ہیں، انڈین بارڈر سکیورٹی فورسز نے خصوصی طور پر ’درشن ستھل‘ قائم کیے ہیں، تاکہ وہ اس جانب واضح طور پر گوردوارے کے درشن کر سکیں۔ کرتار پور ڈیرہ بابا نانک راہداری کے حوالے سے پہلی بار 1998 میں انڈیا اور پاکستان کے حوالے سے مشاورت کی گئی تھی، اب 20 برس بعد دوبارہ یہ خبروں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ دونوں جانب سے امید کی جا رہی ہے کہ اب کی بار ماضی کی تلخیوں کو پس پشت ڈال کر سکھوں کے اس دیرینہ مطالبے پر شاید کچھ پیش رفت ہو جائے گی۔


بقول پنجابی شاعر سرجیت پاتر

"کل وارث شاہ نو ونڈیا سی، آج شیو کمار دی واری ہے"
او زخم تہانوں بھل وی گئے، جے نیویاں دی ہور تیاری ہے

 

عطاء سبحانی  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں