معروف نعت خواں جنید جمشید کو مداحوں سے بچھڑے 2 برس بیت گئے

کراچی(پبلک نیوز) 7دسمبر2016ء کو ہونے والے المناک فضائی حادثے کو 2برس مکمل ہوگئے، سانحہ حویلیاں طیارہ حادثے میں پی آئی اے کی پرواز چترال سے اسلام آباد جارہی تھی کے حادثہ پیش آیا، فضائی حادثے میں معروف مبلغ جنید جمشید سمیت 47 افراد جاں بحق ہوئے۔

 

"دل دل پاکستان" سے پہچان بنانے والے جنید جمشید کو ہم سے بچھڑے 2 برس بیت گئے، لیکن ان کی یادیں اور آواز آج بھی سب کے دلوں میں نقش ہیں۔ جنید جمشید لاہور میں یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سے فارغ التحصیل تھے، اپنے موسیقی کے کیریئر کا آغاز میوزک بینڈ 'وائٹل سائنز' سے کیا۔

جنید جمشید کی دوسری برسی، دِلوں میں آج بھی زند ہ

جنید جمشید 3ستمبر1964ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔1987ء میں ریلیز ہونے والے گیت "دل دل پاکستان" نے خاص طور پر جنید جمشید کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا، ان کے بینڈ کو پاکستانی 'پنک فلوائڈ' کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ 2002 میں اپنے چوتھے اور آخری پاپ البم کے بعد اسلامی تعیلمات کی جانب ان کا رجحان بڑھنے لگا اور ماضی کے پاپ اسٹار ایک نعت خواں کے طور پر سامنے آئے تھے۔ جنید جمشید حکومت نے 2007ء میں تمغہ امتیاز سے بھی نوازا تھا، 2014 میں انہیں دنیا کی 500 بااثر مسلم شخصیات میں بھی شامل کیا گیا تھا۔

 

7دسمبر دو ہزار سولہ کی المناک شام جب چترال سے اسلام آباد واپس آنے والی پی آئی اے کی پرواز 661 کو حویلیاں کے قریب فرشتہ اجل نے آ لیا تھا۔ کنٹرول ٹاور پر مے ڈے مے ڈے کی آواز گونجی اور پائلٹ نے کہا جہاز کا انجن فیل ہو چکا ہے مگر کچھ دیربعد مسافر تھے اور نہ طیارہ تھا۔ زمین پربس ملبہ رہ گیا تھا۔

Image result for planc of junaid jamshed clashed

حویلیاں طیارہ حادثے میں جہاں 47 خاندانوں پر قیامت گزری، وہیں اس درد ناک حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی یادیں ورثاء کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ طیارے حادثے میں مبلغ جنید جمشید، ان کی اہلیہ، ڈپٹی کمشنر چترال ان کی فیملی اور دیگر بدقسمت مسافر شامل تھے۔2 برس بیت گئے ہیں لیکن آج بھی حویلیاں طیارہ حادثے کے ذمہ داروں کا تعین نہ ہو سکا، نہ ہی فضائی حادثے کی تحقیقات مکمل ہو سکی ہیں۔ حادثے میں اپنے پیاروں کو کھو دینے والے 20 ورثاء کو ابھی تک انشورنش پالیسی نہیں مل سکی۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں