شاہ زیب قتل کیس: شاہ رخ جتوئی، سراج تالپور کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل

کراچی(پبلک نیوز) سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ صلح نامے کی بنیاد پر مجرموں کو بری کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ دیگر مجرم سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کی عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

 

سندھ ہائیکورٹ نے ایک سال بعد شاہ زیب قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ شاہ زیب قتل کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی سزائے موقت عمر قید میں بدل دی۔ ہائیکورٹ نے سجاد تالپور اور غلام مرتضیٰ لاشاری کی عمر قید کی سزا برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے شاہ زیب قتل کے مجرم شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔ ملزموں کی جانب سے سندھ ہائیکورٹ سے بریت کی اپیل کی گئی تھی۔

 

مجرمون کے وکیل کا مؤقف تھا کہ مدعی مقدمہ اور مقتول کے والد کا انتقال ہو چکا ہے، والدہ اور دو بہنیں بیرون ملک ہیں، فریقین کے درمیان صلح ہو چکی ہے۔ صلح نامہ کی بنیاد پر تمام مجرموں کو بری کیا جائے۔ وکیل مدعی نے مؤقف اپنایا کہ سرکار نے ملزمان اور مدعی کے درمیان سمجھوتہ پر اعتراض اٹھایا تھا، دھمکیوں اور خطرات کی وجہ سے مقتول کے اہلخانہ منظر عام پر آنا نہیں چاہتے۔ دہشت گردی کے مقدمات میں فریقین کے درمیان صلح نہیں ہو سکتی۔

 

وکلاء صفائی کا شاہ رخ جتوئی کو قتل کے وقت نابالغ قرار دینا درست نہیں۔ واقعے کے وقت شاہ رخ جتوئی کی عمر 18 سال سے زائد تھی۔ سندھ ہائیکورٹ نے مجرموں کی بریت کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے مرکزی ملزموں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی۔ مجرموں نے 25 دسمبر 2012 کو طالبعلم شاہ زیب کو قتل کر دیا تھا۔

عطاء سبحانی  6 روز پہلے

متعلقہ خبریں