پاکستان نےکب کب آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا؟

لاہور (پبلک نیوز) پاکستان نے پہلی مرتبہ 1958میں آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا جس میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرضوں پرمشتمل 21پیکج لیئے اور مشکل شرائط کے باعث 21میں سے 11پیکج پورے نہیں ہوسکے۔

تفصیلات کے مطابق قرض کے لیے پاکستان نے پہلی مرتبہ 1958میں آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا جس میں پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرضوں پرمشتمل 21پیکج لیئے اور مشکل شرائط کے باعث 21میں سے 11پیکج پورے نہیں ہوسکے۔

پاکستان نے پہلا غیر ملکی قرضہ 1950 میں 145ملین ڈالرز کا پانچ سال کے لیے لیا تھا۔ اس کے بعد حکومت ہر بار 57ملین ڈالر سالانہ کے غیر ملکی قرضے لیتی رہیں۔

1960 میں یہ قرضے بڑھ کر 585ملین ڈالرز ہوگئے۔ 1970 تک قرضوں میں اضافے کا رجحان رہا۔ دسمبر 1971 میں غیر ملکی قرضے 3ارب ڈالرز تھے، جون 1977 تک یہ قرضے 6.3 بلین ڈالرز ہوگئے۔

1969ء میں بھٹو حکومت کے خاتمے کے بعد حکومت نے 1984 تک 1.6 ارب ڈالر سالانہ بیرونی قرضے حاصل کیے۔ جون 1998 تک پاکستان نے مجموعی 40 بلین ڈالرز کے غیرملکی قرضے لیئے۔

1951 سے 1955 تک پاکستان کے بیرونی قرضے صرف 121 ملین ڈالر تھے 1969 میں  قرضے بڑھ کر 2.7ارب ڈالر اور 1971 میں 3 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔

1977 میں پاکستان پر واجب الادا قرضے بڑھ کر دگنا 6.3 ارب ڈالر ہوگئے

1990 میں 21.9 ارب ڈالر 2000 میں 35.6 ارب ڈالر تک پاکستان بیرونی قرضوں کا مقروض تھا 2016 میں پاکستان پر 72.98 ارب ڈالر قرض تھا۔

وزارت خزانہ کے مطاطق پاکستان پراس وقت بیرونی قرضے 96 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں اور پاکستان پر مجموعی قرضے 30 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ ملک پرقرضہ جی ڈی پی کا 86.9 فیصد ہے۔ قانون کے تحت حکومت جی ڈی پی کے 60 فیصد سے زیادہ قرضے نہیں لے سکتی اور پاکستان پر قرضے جی ڈی پی کی حد سے تجاوز کر گئے ہیں۔ 

حارث افضل  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں