گڈ گورنینس کیلئے 16 سے زائد پبلک سیکٹر کمپنیاں بند کرنیکا فیصلہ زیرغور

لاہور(ادریس شیخ) پبلک سیکٹر کمپنیز کا مستقبل کیا ہوگا، حکومتی ذمہ داران نے سر جوڑ لیے، 16 سے زائد پبلک سیکٹر کمپنیز بند کرنے پر غور، فیصلہ چند روز میں کیا جائے گا۔ حتمی سفارشات وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائی جائیں گی۔

 

چیف سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکریٹری خزانہ، سیکریٹری قانون، سیکریٹری پی اینڈ ڈی اور سیکریٹری سروسز پر مشتمل کمیٹی نے پبلک سیکٹر کمپنیز سے متعلق محکموں کے وزراء اور سیکریٹریز سے تجاویز طلب کر لی ہیں، تجاویز کے بعد قانونی مشاورت کی جائے گی، حتمی سفارشات وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائی جائیں گی۔

 

وزیراعلیٰ پنجاب سفارشات پر نظرثانی کے بعد معاملہ حتمی فیصلے کیلئے صوبائی کابینہ کو بھجوایا جائے گا، کمیٹی کو متعدد کمپنیز بند کرنے کی سفارشات موصول ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق جن کمپنیز کو بند کیے جانے کا امکان ہے۔ ان میں ان لینڈ واٹرٹرانسپورٹ کمپنی، پنجاب ورکنگ ویمن اینڈومینٹ فنڈ کمپنی، پنجاب میٹ پروسیسنگ کمپنی، پنجاب ڈیری کارپوریشن، پنجاب سوشل سکیورٹی ہیلتھ مینجمنٹ کمپنی اور کامیاب کمپنی شامل ہیں۔

 

فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان، بہاولپور اور سیالکوٹ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز اور لاہور اور فیصل آباد پارکنگ کمپنی، لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، گوجرانوالہ، راولپنڈی، سرگودھا، ملتان، بہاولپوراور ڈیرہ غازی خان کیٹل مارکیٹ کمپنیز، قائداعظم ہائیڈل پاورکمپنی، پنجاب رینیوایبل انرجی کمپنی، پنجاب کول پاور کمپنی اور قائداعظم ونڈ پاور کمپنی شامل ہیں۔

 

لاہور واٹراینڈ سینی ٹیشن کمپنی، راوی زون ڈویلپمنٹ کمپنی، انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی، پنجاب اینٹرٹینمنٹ کمپنی، پنجاب کلچر اینڈ آئوٹ ریچ کمپنی، پنجاب سلورلینڈ بائیو ٹیکنالوجی کمپنی بھی بند ہونے کی سفارش کر دی گئی ہے۔گورننس کی بہتری کیلئے قائم کی گئیں پبلک سیکٹر کمپنیز کو بند کرنے سے قبل کرپشن کے ذمہ داران کا تعین بھی ضروری ہے۔

عطاء سبحانی  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں