ماحولیاتی آلودگی کے پیش نظر20 اکتوبر سے 31 دسمبر تک بھٹے بند رکھنے کا فیصلہ

لاہور(پبلک نیوز) پنجاب بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث سموگ سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا رہتا ہے، سموگ کے بڑھتے ایشو پرقابو پانے کیلیے حکومت نے بھٹہ مالکان کو 20 اکتوبر سے 31 دسمبر تک بندرکھنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔

 

بھٹوں سے نکلنے والا دھواں شہریوں اورموسم کے لیے خطرناک ثابت ہونے لگا، بڑھتے ہوئے ماحولیاتی آلودگی کے مسائل میں ایک بڑاحصہ بھٹوں کی چمنیوں سے نکلنے والا دھواں بھی ہے، سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی سموگ کے بادل ہر طرف منڈلانا شروع ہو جاتے ہیں۔ حکومت نے بھٹہ مالکان کو20اکتوبرسے 31 دسمبر تک بند رکھنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

 

بھٹہ مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت سموگ کے مسلئے پر قابو پانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائے، بھٹے بند کرنا مسلئے کا مستقل حل نہیں ہے، کاروباراور روزگار دونوں متاثر ہوتے ہیں۔ بھٹے بند ہونے سے ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد تو ملے گی، لیکن بھٹے پر کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں کے روزگار بھی داؤ پر پر لگ گئے ہیں۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ بھٹہ ہی ان کے گھروں کے چولہے جلنے کا واحد ذریعہ ہے۔

 

بھٹوں کی بندش کے باعث جہاں روزگار اور کاروبار متاثر ہورہے ہیں، وہیں گھروں کی تعمیرمیں استعمال ہونے والی اینٹ بھی ہزاروں روپے مہنگی فروخت ہو رہی ہے جس سے دیگرعوام بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

عطاء سبحانی  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں