منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے بڑے اقدامات کا فیصلہ

اسلام آباد(پبلک نیوز) حکومت نے منی لانڈرنگ کے خلاف ہر حد تک جانے کے لئے آستینیں چڑھا لیں۔ حکومت نے نئے قانون کا مسودہ تیار کر لیا۔ منی لانڈرنگ کے خلاف مزید مؤثر قانون سازی ہو گی۔ سزا اور جرمانے میں اضافے کی بھی تجویز زیر غور، ناقابل ضمانت جرم بھی بنایا جائے گا۔

 

منی لانڈرنگ کی روک تھام کر نے کے لئے بڑے اقدامات کا فیصلہ کر لیا گیا، حکومت نے منی لانڈرنگ کے خلاف ہر حد تک جانے کے لئے آستینیں چڑھا لیں۔ منی لانڈرنگ، ہنڈی اور حوالہ کے خلاف قوانین سخت کئے جائیں گے۔ حکومت نے نئے قانون کا مسودہ تیار کرلیا۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ نئے قانون پر متعلقہ اداروں سے مشاورت ہو گئی۔ وفاقی کابینہ سے نئے قانون کے مسودے کی منظوری لی جائے گی۔

 

ذرائع کے مطابق نئے قانون سے منی لانڈرنگ میں ملوث افراد، کمپنیاں یا ان کے ڈائریکٹروں کے خلاف سزا اور جرمانہ میں بھی اضافہ کی تجویز، کم از کم سزا تین اور زیادہ سے زیادہ دس سال کرنے کی تجویز۔ کمپنی کے ڈائریکٹر یا افراد کو جرمانہ بھی پچاس لاکھ سے بڑھا کر پانچ کروڑ کی تجویز۔ جائیداد بھی نوے دن کے بجائے چھ ماہ تک بحق سرکار ضبط کرنے کی تجویز، اب قابل سزا جرم کی ضمانت بھی نہیں ہوسکے گی۔

 

ذرائع کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت ٹربیونل منی لانڈرنگ میں ملوث شخص کیخلاف چھے ماہ میں کارروائی مکمل کرنے کا پابند ہو گا، ایف آئی اے کو بنکوں سے ریکارڈ کے حصول اور ایکسچینج کمپنیوں کے کیش بوتھس کوبند کرنے کی اجازت دی جائے، کابینہ کے فیصلہ کے بعد نئے قانون کو صدارتی آرڈیننس یا ایکٹ کی صورت میں نافذ کیا جائے گا۔

عطاء سبحانی  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں