پاکستان میں ایک بار پھر ڈینگی سر اٹھانے لگا

 

پبلک نیوز: گزشتہ 24 گھنٹوں میں راولپنڈی، اسلام آباد میں 83 اور لاہور میں 5 مریضوں میں ڈینگی کی تشخیص کی گئی ہے۔ کراچی میں رواں سال 1700 سے زائد ڈینگی متاثرین کا انکشاف ہوا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں راولپنڈی اسلام آباد میں 83 مریضوں میں ڈینگی کی تشخیص کی گئی۔ ائیررپورٹ ہاؤسنگ سوسائٹی اور ملحقہ علاقوں میں ڈینگی کی شدت میں اضافہ ہوا۔ وفاق کے ہسپتالوں میں بھی ڈینگی مریضوں کی تعداد بڑھنے لگی۔ بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر آئسولیشن وارڈز کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا۔

 

راولپنڈی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں مزید 80 شہری ڈینگی بخار کا شکار ہوئے۔ جس کے بعد مریضوں کی تعداد 2048 ہو گئی۔ شہر اقتدار کے معروف تجارتی مراکز میں ڈینگی سے آگاہی کے لیے اسکرینز بھی نصب کر لی گئیں۔ شہر میں اسکرین لگی گاڑیاں بھی شاہرائوں پر رواں دواں ہیں۔

 

دوسری جانب 24 گھنٹوں میں لاہور کے اسپتالوں میں ڈینگی کے 5 مریض داخل ہو گئے۔ چلڈرن اسپتال میں ایک، نیشنل اور سروسز اسپتال میں ڈینگی سے متاثر دو دو مریض داخل کیے گئے۔ حکومتی اقدامات اور صفائی ستھرائی کے معاملات پر عوام بھی پھٹ پڑے اور ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتطامیہ خواب غفلت سے بیدار ہونےکا نام نہیں لے رہی۔

 

ضلعی انتظامیہ لاہور کے مطابق ڈینگی لاروا کی برآمدگی پر 41 مقدمات درج کیے۔ انتظامیہ کے مطابق لاہور کے سرکاری اسپتالوں میں ڈینگی کے 35 میں سے 30 مریض روبہ صحت ہو کر ڈسچارج ہو چکے۔ زیرعلاج پانچ مریضوں کو بھی جلد ڈسچارج کر دیا جائے گا۔ ضلعی حکومت کی سرویلسن ٹیموں کی ناقص کارکردگی پر اب شہر میں انسداد ڈینگی مہم کا ہفتہ آگاہی کا اعلان کر دیا گیا۔

 

 

کراچی میں بھی ڈینگی نے خطرناک صورت حال اختیار کر لی۔ رواں سال 1700 سے زائد ڈینگی متاثرین کا انکشاف ہوا۔ رواں سال شہر میں ڈینگی کے 1760 سے زائد ڈینگی متاثرین کا انکشاف ہوا جبکہ رواں ماہ 300 سے زائد افراد کے ڈینگی سے متاثر ہونے کا انکشاف ہوا۔ صوبے بھر میں ڈینگی متاثرین کی تعداد 1841 ہو چکی۔ ڈینگی سرویلنس سیل  کے مطابق رواں سال کراچی میں ڈینگی سے ہلاکتوں کی تعداد 8 تک جا پہنچی ہے۔

 

دوسری جانب شہر میں اسپرے مہم بھی سیاست کے نظر ہو چکی۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ شہر میں ڈینگی سپرے نہیں کیے جا رہے حکام بالا شہریوں پر رحم کریں۔ اب دیکھنا یہ ہے کے متعلقہ حکام ڈینگی پر قابو پانے کے لیے کوئی اقدامات بھی اتھاٹے ہیں یا ایک بار بھر دعوے ہی کراچی کا مقدر بنیں گے۔

 

احمد علی کیف  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں