ڈپریشن قابل علاج، لیکن کیسے؟

ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ جسمانی بیماریوں کو تو بیماری تسلیم کیا جاتا ہے نفسیاتی بیماریوں کو نہیں۔ نفسیاتی بیماریوں کی علامات واضح بھی ہوں اور جان بھی لیا جائے کہ یہ نفسیاتی عارضہ ہے پھر بھی اس سے آنکھیں چرائی جاتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ نفسیاتی بیماریوں کو باعثِ شرم جانا جاتا ہے۔

نفسیاتی بیماریوں میں ایک خطرنا ک مرض ڈپریشن ہے۔ مختلف سرویز کے مطابق پاکستان سمیت دنیا میں ڈپریشن تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس کے پتہ چلانا نہایت ضروری ہے۔ اس کی علامات بارے آگاہی نا گزیر ہے۔ ڈپریشن ہونا ایک  نارمل بات ہے۔ یہ بیماری کسی کو بھی لاحق  ہو سکتی ہے۔

ڈپریشن صرف بڑوں ہی میں نہیں ہوتا، بچے اور نوجوان بھی اس کا شکار ہوتے ہیں۔ ڈپریشن کے مریض کی دماغی حالت اس قابل نہیں ہوتی کہ وہ درست فیصلے کر سکے۔ ڈپریشن کے مریض اپنی جان تک کا خاتمہ کر لیتے ہیں۔

حال ہی میں لاہور میں ایک طالبہ نے اپنی جان کا خاتمہ کر لیا۔ اس نے سوشل میڈیا پر پیغام دیا تھا کہ اگر وہ خود کشی کر لے تو اسے اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے۔ طالبہ کے اس پیغام کو سنجیدہ لینے کی ضرورت تھی۔

اگر کوئی بھی شخص خودکشی کی بات کرے تو اسے سنجیدہ لے کر اس کا نفسیاتی معائنہ لازمی کرایا جائے۔ ڈپریشن کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں ٹیکنالوجی کی ترقی اور والدین کا بچوں سے کھل کر بات نہ کرنا اور انہیں مناسب وقت نہ دینا ہے۔

مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ ڈپریشن قابلِ علاج ہے۔ ڈپریشن کے مریضوں کا فوراً ماہرِ نفسیات سے چیک اپ کرایا جائے۔ اس کے علاوہ مذہبی روایات اپنانے، ذکرِ خدا کرنے سے دل کو تسلی ہوتی ہے اور ڈپریشن سے نجات ملتی ہے۔

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں