شریف فیملی کے خلاف کرپشن مقدمات میں جاری تحقیقات کی تفصیلات سامنے آگئیں

لاہور(مستنصر عباس) نیب نے شہباز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اثاثوں پر تحقیقات شروع کر رکھی ہیں، نیب نے اس کیس میں اب تک کتنے ملزموں کو گرفتار کیا؟ پبلک نیوز نے تفصیلات حاصل کر لیں۔

 

نیب نے اکتوبر 2018میں شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز سلمان شہباز سمیت دیگر فیملی ممبران کے خلاف منی لانڈرنگ اور غیر قانونی اثاثوں کے الزامات پر انکوئری شروع کی، 3اپریل 2019کو انکوئری کو انویسی گیشن میں تبدیل کیا گیا اور حمزہ شہباز کی گرفتاری کے لیے ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، تاہم حمزہ شہباز نے لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت کرالی۔

 

نیب نے شہباز شریف خاندان کے لیے سہولت کاری اور فرنٹ مین کا کردار ادا کرنے پر اب تک پانچ ملزموں کو گرفتار کیا ہے، منی لانڈرنگ کے الزام پر نیب نے 4اپریل کو شریف فیملی کے ذاتی ملازم فضل داد عباسی اور قاسم قیوم کو گرفتار کیا، دوسری گرفتاری 8 اپریل کو شوگر ڈیلر مشتاق چینی کی گئی، ملزم پر سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں 50کروڑ منتقل کرنے کا الزام ہے، 19اپریل کو نیب نے ایک اور منی ایکسچینج کا کاروبار کرنے والے ملزم شاہد رفیق کو گرفتار کیا، جس پر شہباز شریف کے خاندان کا سہولت کار ہونے کا الزام ہے۔

 

نیب نے 23 اپریل کو ایک اور ملزم آفتاب محمود کو گرفتار کیا، جس پر الزام عائد کیا گیا کہ ملزم نے غیر قانونی طور پر شہباز شریف خاندان کے اکاؤنٹ میں رقوم منتقل کیں، پانچوں گرفتار ملزم اس وقت جسمانی ریمانڈ پر نب کی حراست میں ہیں، نیب کے مطابق شہباز شریف خاندان کے خلاف اب تک 3ارب منی لانڈرنگ کے شواہد حاصل کر لیے گئے ہیں۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں