پی ٹی ایم حد پار نہ کرے ورنہ ریاست بھی اپنا حق محفوظ رکھتی ہے: ترجمان پاک فوج

راولپنڈی(پبلک نیوز) ڈی جی آئی آیس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ رواں سال 200سے زائد بار سیز فائر کی خلاف ورزی ہوئی، ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج کمی آرہی ہے۔ ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 44 سے زائد آپریشن کیے۔

 

پاک فوج کے شعبہ تعلقات (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے میڈیا کو یفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کےواقعات میں کمی آئی، ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں بتدریج کمی آرہی ہے اور وقت قریب ہے کہ ہم مکمل امن کی طرف چلیں گے اور وہاں فراری ہتھیار ڈال رہے ہیں۔ کراچی میں سکیورٹی اقدامات بہت اچھے ہیں۔


ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارت ایل اوسی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بھارت جان بوجھ کر آبادی کو نشانہ بناتا ہے۔ سکھ برادری کا داخلہ صرف ایک راستے سے ہو گا۔ کرتار پور راہداری کے راستے پر خاردار تاریں لگائی جائیں گی۔ بھارت نے کرتار پور راہداری پر بھی منفی پروپیگنڈا کیا۔ امید ہے بھارت خیر سگالی جذبے کا مثبت جواب دے گا۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی۔ بلوچستان میں فراری ہتھیار ڈال رہے ہیں۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بہت کمی آئی، کراچی میں سکیورٹی اقدامات بہت اچھے ہیں۔ کراچی میں امن کا کریڈٹ سندھ رینجرز کو جاتا ہے۔ ردالفساد کے تحت ملک بھر میں 44 سے زائد آپریشن کیے۔2لاکھ سے زائد فورسز اہلکار فاٹا میں تعینات ہیں۔ کوئی بھی جنگ آپریشن کرنے سے ختم نہیں ہوتی۔ آپریشن کے بعد بحالی امن اور ترقیاتی کام شروع کیے

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کہا کہ حالات بہتر ہونے پر متاثرہ علاقوں میں چیک پوسٹوں میں کمی کی، جہاں ضرورت نہیں ہو گی وہاں چیک پوسٹ نہیں بنائیں گے۔ افغانستان میں امن وامان کی صورتحال بہتر نہیں۔ وہ دن دورنہیں جب پاکستان سے پولیو کا خاتمہ ہو گا۔ افغان بارڈر پر 2611 کلو میٹر پر باڑ لگا رہے ہیں۔ افغان سرحد سے خطرہ نہ ہو تو 2 ہزار اہلکارواپس بلا سکتے ہیں۔ 7ہزار لاپتہ افراد مقدمات میں سے 4 ہزار کیس حل ہوچکے، دیگر3ہزارمقدمات پر کارروائی جاری ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ فوج کے بجٹ اور ویلفیئر پروگرامز پر آئندہ دنوں میں بات کروں گا۔ پاک فوج میں خودکاراحتساب کانظام موجود ہے۔ پاک فوج میں خود کار احتساب کے نظام کے 4 نکات موجود ہیں۔ فوج میں بغیر بتائے چھٹی کی جائے تب بھی پوچھا جاتا ہے۔ میجرجنرل آصف غفور نے آرمی چیف کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ آرمی چیف کے پیغام کے مطابق ملک کو ایک ایک اینٹ لگا کر دوبارہ بنا رہے ہیں۔

 

میجرجنرل آصف غفور 2برسوں میں 400افسروں کو مختلف وجوہات پر سزائیں ہوئیں۔ ایک افسر کو 10 ہزار روپے کی کرپشن پر گھر بھیج دیا گیا۔ ماضی کو لے کر بیٹھے رہے تو آگے نہیں بڑھ سکتے۔ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر خطے میں امن نہیں آسکتا۔ ہم نے جنگیں لڑیں، دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دیں۔ معیشت تباہ ہوئی، آدھا ملک بھی گنوا دیا۔ آج کی افواج پاکستان گزرے ہوئے کل کی فوج نہیں۔15سال افواج پاکستان اپنے گھروں میں نہیں بیٹھی۔ میں آج کی افواج پاکستان کا ترجمان ہوں۔

 

میجرجنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم کے تینوں مطالبات پر ریاست نےعمل کیا، کوئی اپنی حدپارنہ کرےورنہ ریاست اپناحق محفوظ رکھتی ہے۔ بھارت پہلے خود سیکولر بن جائے۔ ہم جیسے ہیں برداشت کرے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا، کوئی ہمیں نہ بتائے ہم نے کیا کرنا ہے۔ ہم نے کرتار پور راہداری کھول دی۔ بابری مسجد کے ساتھ کیا ہوا؟

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت جارحیت کرے گا تو جارحیت کا جواب بھی دیکھے گا۔ پاکستان پہلے دن سےافغان سیاسی طریقےسےامن عمل کاحامی ہا۔ چاہتے ہیں امریکا افغانستان کو بطور ناکامی نہیں، دوست کی حیثیت سے چھوڑے۔ عوام کی رائے بنانے میں میڈیا کا کلیدی کردار ہے۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں