آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک مقابلہ کریں گے، ڈی جی آئی ایس پی آر

 

راولپنڈی (پبلک نیوز) ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کشمیریوں کو پیغام دیتا ہوں ہماری سانسیں آپ کے ساتھ جڑی ہیں۔ کشمیر کی جدوجہد پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں ایکشن خطے میں نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے۔ آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک مقابلہ کریں گے۔

 

تفصیلات کے مطابق پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خطے میں عالمی دنیا کے اپنے مفادات ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کی معاشی صورتحال میں چین کا کلیدی کردار ہے۔ افغامنستان نے سوائے جنگ، قربانیوں اور شہادتوں کے کچھ نہیں دیکھا۔ خطے کے امن میں  ایران کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت میں آر ایس ایس اور نازی نظریات کے حامیوں کی حکومت ہے۔ اس نظریے نے گاندھی کا قتل اور گجرات میں فسادات کرائے۔ 20 سال سے پاکستان نے دہشت گردی کے ناسور کا سامنا کیا۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر میں ایکشن خطے میں نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے۔ امید کرتے ہیں افغان امن عمل کامیاب ہوں گے۔ جنگیں صرف ہتھیاروں اور معیشت سے نہیں لڑی جاتیں۔ کشمیر ہماری شہ رگ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے۔ بدقسمتی سے عالمی طاقتوں نے مسئلہ کشمیر پر اتنی توجہ نہیں جتنی بنتی ہے۔ نتیجہ سامنے ہے دنیا اب کشمیر پر بات کر رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر پر لندن مظاہرے کی مثال نہیں ملتی۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی ختم ہونی چاہیے۔ پاک فوج اور عوام مقبوضہ کشمیر پر ہر حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ کشمیریوں کو پیغام دیتا ہوں ہماری سانسیں آپ کے ساتھ جڑی ہیں۔ پاکستان طویل جدوجہد  کے بعد حاصل کیا۔ کشمیر کی جدوجہد پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ رات کو اداکار عابد علی کی موت کی خبر پھیلا دی اب معافیاں مانگ رہے ہیں۔ مسئلہ کشمیر 72 سال سے دو طرفہ ہے تو حل کیوں نہیں ہوا۔ 72 سال سے جاری کشمیریوں کی جدوجہد کے ختم ہونے کا وقت آگیا۔

 

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ 3 تاریخ کو کور کمانڈر کانفرنس میں ملکی سلامتی پر بات ہوئی۔ پریس کانفرنس کا بنیادی مقصد مشرقی سرحد پر حالیہ صورتحال ہے۔ پاکستان کو نظر انداز کر کے کسی کے مفاد پورے نہیں ہو سکتے۔ سوا ارب کی آبادی پر مشتمل بھارت کے ساتھ دنیا کے مفادات جڑے ہیں۔ چین کے بھارت سے اپنے بھی کافی مسائل ہیں۔ تنازعات کے باوجود بھارت اور چین کے معاشی تعلقات بھی ہیں۔ پاکستان نے افغان امن کے لیے بھرپور کوشش کی۔ ایران کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات خطے کے امن کے لیے خطرناک ہیں۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا مودی حکومت مقبوضہ سے متعلق نہرو کے نظریے سے منہ موڑ چکی۔ بھارت نے دہشت گردی سے توجہ ہٹانے کی بہت کوشش کی۔ پاکستان اور پاک فوج واحد ہے جس نے تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا۔ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ افغانستان میں امن سے مغربی بارڈر پر فوج کی تعیناتی ختم ہو سکتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے ہماری معیشت پر فرق پڑا۔ جنگیں حب الوطنی، عزت اور وقار کے لیے بھی لڑی جاتی ہیں۔ عزت اور وقار کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر انسانی حقوق کی پامالی کا بد ترین المیہ بن چکا۔ ایک ماہ سے مقبوضہ کشمیر کے حالات 72 سال کی انتہا پر ہیں۔ کشمیریوں کی نسل کشی اور قیادت کو پابند سلاسل کیا جا رہا ہے۔ جنگ لڑنا جنگ کا حصہ ہوتا ہے۔ وزیراعظم مسئلہ کشمیر پر 13 ممالک کے سربراہان سے  ملاقات کر چکے۔ حکومت کی قائم کردہ کشمیر کمیٹی بھی معاملہ دیکھ رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر پر دنیا بھر کا مؤقف پیش کرنے پر میڈیا قابل تحسین ہے۔

 

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کا حل  پاکستان کا قومی مفاد ہے۔ ایل او سی پر کسی بھی جارحیت کا پاکستان بھرپور جواب دے گا۔ یہی وقت ہے اقوام عالم اپنا کردار ادا کریں۔ آزادی کی جدوجہد طویل ہوتی ہے ہمیں ثابت قدم رہنا ہوگا۔ کشمیر کی جدوجہد پر سمجھوتا نہیں ہوگا۔ کشمیر کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے چاہے کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔ آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک مقابلہ کریں گے۔

 

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ٹرمپ ملاقات کی بات چیت سب کے سامنے ہے۔ کشمیر پر کوئی سودے بازی نہیں ہوئی۔ وزیرخارجہ کا کام سفارت کاری سے جنگ روکنا نہ کہ اعلان کرنا ہے۔ سفارتی کوششیں کامیاب نہیں ہوتی تو جنگ ہی آخری آپشن ہے۔ اسٹریٹجی قابلیت اور پالیسی سیاسی سطح پر طے ہوتی ہے۔ ملکی سالمیت کی بات ہو تو ہر قسم کی آپشن استعمال ہوتی ہے۔ بھارت سوچتا ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کی معیشت کمزور ہے۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کو بتا دیں مشرقی سرحد پر کچھ ہوا تو تمام تر توجہ اسی  پر ہوگی۔ کیسے کرنا ہے ہم پر چھوڑ دیں کیا کرنا ہے وہ بتا دیا۔ گزارش  ہے سوشل میڈیا پر خبر پھیلانے سے پہلے تصدیق کر لیا کریں۔ پاک ایران بارڈر پر فینسنگ کا کام جاری ہے۔ کیسے ہو سکتا ہے ظلم کریں اوربھارت کہے فیصلہ بھی خود کروں گا۔ اب مذاکرات  کی یکطرفہ وقعت نہیں ہو گی۔ آرمی چیف اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے تھے۔

 

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں