فاروق ستار کے دورِ وزارت اوورسیز میں غیر قانونی ملازمین بھرتی ہونے کا انکشاف

کراچی(پبلک نیوز) پیپلزپارٹی دور میں ایم کیو ایم بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتی رہی، متحدہ پر غیرقانونی اور بوگس بھرتیوں کا بڑا کیس تیار، فاروق ستار کی وزارت اوورسیز میں 4 ہزار ایم کیو ایم کارکنوں کو غیر قانونی بھرتی کرنے کا الزام ہے، وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے انکشاف کر دیا۔

 

پیپلز پارٹی کی حکومت نے وزارت اووسیز میں چار ہزار افراد سیاسی و غیر قانونی بھرتی کیے تھے، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم پاکستان) کے سابق رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی وزیر اووسیز کے طور پر چار ہزار ایم کیو ایم ورکرز بھرتی کیے تھے، تمام غیر قانونی بھرتیاں پیپلز پارٹی دور حکومت میں 2010 سے 2012 کے دوران کی گئیں۔

 

غیر قانونی طور پر بھرتی ہونے والے ملازمین میں اکثریت کی ڈگریاں بھی جعلی ہونے کا انکشاف ہوا ہے، صرف او پی ایف میں تین ہزار لوگ بھرتی کئے گئے تھے۔ غیر قانونی بھرتی ہونے والے ملازمین گھر بیٹھے تنخواہیں لیتے رہے، خزانے کا کروڑوں کا نقصان پہنچایا گیا۔

 

اکثریت کے پاس تو ڈگریاں بھی اصلی نہیں، گھوسٹ ملازمین نے گھر بیٹھے تنخواہیں لے کر خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا،غیر قانونی و گھوسٹ ملازمین بھرتی ہونے کا انکشاف وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے کیا ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے زلفی بخاری نے مزید تحقیقات کے لیے کیس نیب کو بھجوانے کا اعلان کر دیا۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں