الیکشن کمیشن: پی کے 23 شانگلہ میں انتخابی عمل کالعدم قرار، دوبارہ انتخابات کا حکم

شانگلہ (پبلک نیوز) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 23 پر انتخابی عمل کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دے دیا۔ تاہم  تحریک انصاف کے شوکت یوسفزئی نے الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو ظالمانہ فیصلہ قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا کے علاقہ شانگلہ میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 23 پر انتخابی عمل کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دے دیا۔

فیصلہ پر رد عمل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ ظالمانہ ہے۔ شانگلہ کے علاقہ میں انتخابات کرانا آسان نہیں۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے تھا صرف خواتین کی دوبارہ پولنگ کروائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ حلقہ میں دوبارہ الیکشن کرانے سے ہمارا نقصان ہو گا۔ میرے پاس اتنے وسائل نہیں کے دوبارہ انتخابات میں حصہ لے سکوں۔ دوبارہ الیکشن لڑنے کے لیے پیسے کہاں سے لاؤں۔

انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست مسلم لیگ ن کے ہارنے والے امیدوار کی جانب سے دی گئی تھی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس حلقہ میں 2 پولنگ اسٹیشنز پر خواتین کے ووٹ بالکل کاسٹ نہیں ہوئے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ایک جرگہ میں باقاعدہ اعلان کر کے خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکا گیا تھا۔ خواتین نے اس جرگہ کے فیصلہ پر درخواستیں دیں اور ریٹرننگ آفیسرز کو بھی آگاہ کیا تھا۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مذکورہ حلقہ سے خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 5.1 فیصد رہا جبکہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق خواتین کا ٹرن آؤٹ 10 فیصد ہونا لازمی ہے۔

واضح رہے کہ حلقہ پی کے 23 میں مجموعی ووٹ 69827 تھے جن میں سے 3505 خواتین نے پول کیے۔

1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں