تجاوزات آپریشن: ہل پارک میں قائم سی پی ایل سی کا دفتر توڑنے سے روک دیا گیا

کراچی (اسامہ عتیق) شہر قائد میں آپریشن کلین اَپ زروشور سے جاری ہے۔ دوران آپریشن شادی ہال سمیت دیگر غیرقانونی تعمیرات کو مسمار کیا جارہا ہے۔ ہل پارک میں قائم سی پی ایل سی کا  دفتر توڑنے سےروک دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ڈسٹرک ایسٹ ہل پارک میں انسداد تجاوزات سیل کا آپریشن، توڑ پھوڑ، عمارتیں منہدم، شادی ہالز کا بھی صفایا لیکن سی پی ایل سی کا دفتر باقی ہے۔

 ہل پارک میں قائم سی پی ایل سی کا آفس کے ایم سی اور انتظامیہ کے درمیان تنازعہ کا باعث بن گیا۔  پہلے مہلت پھر ایکشن میں تاخیری حربے اختیار کیے گئے۔ میونسپل کمشنر سیف الرحمان کی جانب سے بار بار بیانات میں ہیرا پھیری کی گئی۔

پہلے انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر آپریشن کیا جا رہا ہے، پارک پبلک پلیس ہے۔ دوسری جگہ ان کا کہنا تھا کہ سی پی ایل سی کے دفتر لوگوں کی سیکیورٹی کا دفتر فراہم کرتا ہے۔ اس دفتر کے بنانے کا مقصد کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو مربوط بنانے کیلئے بنایا گیا تھا۔

آپریشن کے دوران سینئر ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ بشیر صدیقی نے بھی سی پی ایل سی کے دفتر کو ہر حال میں مسمار کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے نظر آئے۔

ہل پارک میں تجاوزات کے خلاف کے ایم سی کی چار ٹیموں نے آپریشن کیا ۔ آپریشن کے دوران ہل پارک میں موجود دو شادی ہال، دس سے بارہ ریسٹورینٹ ، پینتیس دکانیں مسمار کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

احمد علی کیف  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں