سینیٹ آف پاکستان: قانون سازی سست روی کا شکار، کارکردگی رو بہ زوال، فافن رپورٹ جاری

اسلام آباد (پبلک نیوز) سینیٹ کی کارکردگی روبہ زوال ہو گئی ۔ سینیٹ کی مجموعی کارکردگی گذشتہ برس کی نسبت کم، قانون سازی بھی سست روی کا شکار ہو گئی۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک نے سینیٹ کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی۔ قائمہ کمیٹیاں بھی متاثر کن پرفارمنس نہ دکھا سکیں۔

تفصیلات کے مطابق ایوان بالا کی 19-2018 کی کارکردگی رپورٹ آ گئی۔ فری اینڈفیئر الیکشن نیٹ ورک نے سینیٹ کی سالانہ پرفارمنس جاری کردی۔

فافن رپورٹ کے مطابق سینیٹ کے سولہویں پارلیمانی سال میں قانون سازی سست روی کا شکار رہی، مجموعی کارکردگی بھی گزشتہ برس کی نسبت کم ہے،ایوان اپنا تین چوتھائی ایجنڈا نمٹانے میں کامیاب رہا۔

پارلیمانی سال میں بیس حکومتی اور چھ نجی قانونی مسوّدات کے ساتھ تیس قراردادوں کی منظوری دی گئی۔ قانون سازی اور نظم و ضبط کے اعتبار سے سینیٹ کی کارکردگی روبہ زوال رہی ۔

سینیٹ نے گذشتہ برس کی نسبت نصف قانونی مسوّدات منظور کیے، جس کی بڑی وجہ حکمراں جماعت کا اقلیت میں ہونا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے فی الحال سات قانونی مسوّدات ایوان میں لائے گئے۔ منظور شدہ حکومتی قانونی مسوّدات فاٹا کے کے پی میں انضمام، صحت کے شعبے میں ادارہ جاتی اصلاحات، انسانی سمگلنگ سے نمٹنے کے طریقہ کار میں بہتری لانے سے متعلق تھے۔

رپورٹ کے مطابق سینیٹ کمیٹیوں کی کارکردگی بھی متاثر کن نہ رہی۔ سینیٹ کی مختلف قائمہ کمیٹیوں، فنکشنل کمیٹیوں اور خصوصی کمیٹیوں نے بانوے رپورٹیں ایوان میں پیش کیں۔ ایوان کی کارروائی کا دورانیہ بھی گذشتہ برس کی نسبت ایک تہائی کم رہا۔ سولہویں پارلیمانی سال کے دوران ایوان کی چھتر نشستیں ہوئیں جو پندرہویں پارلیمانی سال سے کم ہے۔

گزشہ برس کی نسبت وقت کی پابندی میں بہتری دیکھنے کو ملی۔ تاہم اس سال تیرہ نشستوں کی کارروائی کورم کی کمی کی وجہ سے التوا کا شکار رہی۔ کارروائی کے دوران احتجاج اور واک آؤٹ کے واقعات میں بھی گذشتہ برس کی نسبت اضافہ ہوا۔ اس نوعیت کےانتالیس واقعات پیش آئے۔ گزشتہ سال ان واقعات کی تعداد محض چھ تھی۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں