اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ قانونی عمل کا حصہ ہے: فیصل جاوید

اسلام آباد (پبلک نیوز) چیئرمین سینٹ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات سینٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ قانونی عمل کا حصہ ہے۔ قوم عدالتوں سے بے لاگ انصاف کی توقع رکھتی ہے۔ عوام چاہتی ہے کہ جنہوں نے ان کا مستقبل بنجر کرنے کی کوشش کی ان کا کڑا محاسبہ کیا جائے۔

 

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے آصف زرداری اور فریال تالپور کی درخواست ضمانت مسترد کر دی گئی۔ سینٹر فیصل جاوید کا اس موقع پر درعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ قانونی عمل کا حصہ ہے۔ قوم عدالتوں سے بے لاگ انصاف کی توقع رکھتی ہے۔ عوام چاہتی ہے کہ جنہوں نے ان کا مستقبل بنجر کرنے کی کوشش کی ان کا کڑا محاسبہ کیا جائے۔ زرداری و شریف خاندان کی وارداتوں کی کہانیاں زبان زدِ عام ہیں۔

 

فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ عوام جائز طور پر پریشان ہیں کہ ان کے ادوارِ حکومت میں وہ تو غریب ہوئے جبکہ ان دونوں کے اثاثے سات براعظموں تک پھیل گئے۔ روز اول سے دونوں خاندان اپنی لوٹ مار بچانے کے لیے جمہوریت کا تماشہ کرتے آئے ہیں۔ ان سے لوٹ مار کا حساب مانگا جائے تو ایوان کو یرغمال بنانے اور سڑکوں پر نکلنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ ماضی میں انتخابی موسم میں دونوں نورا کشتی کرتے، الیکشنز کے بعد ایک دوسرے کو لوٹ مار کے لیے این آر او دے دیتے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ آج الحمدللہ قوم کی بھرپور حمایت سے سامنے کپتان کھڑا ہے۔ قوم نے جس قائد کو وزارت عظمیٰ کا منصب سونپا اس نے اپنا پورا منی ٹریل عدالت عظمیٰ میں پیش کیا۔ عمران خان نے باہر سے پیسہ کمایا اور سارا پیسہ پاکستان لیے کر آئے۔ محنت سے کمائے گئے سارے پیسے کی 60 سے زائد دستاویز پر مشتمل منی ٹریل عدالت میں پیش کی۔ شریف و زرداری لوٹ مار کا پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر لیکر گئے اور ثبوت کے طور پر ایک کاغذ پیش نہیں کرسکے۔

 

اب یہ چاہتے ہیں کہ دھکمیوں کے ذریعے بچ نکلیں یا کوئی این آر او انہیں مل جائے۔ این آر او ملے گا نہ ہی احتسابی عمل میں کسی قسم کی نرمی برتی جائے گی۔ قومی وسائل کی لوٹ مار کرنے والوں کو سیاسی پناہ گاہوں میں چھپنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ امید ہے قانون عمل مکمل ہوگا تو زردرای اپنے "پارٹنر ان کرائم" کی طرح نمونہ عبرت بنیں گے۔

حارث افضل  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں