گزشتہ حکومت نے آبی وسائل پر توجہ نہیں دی: فیصل واوڈا

اسلام آباد (پبلک نیوز) وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ  داسو منصوبہ پر روزانہ 30 کروڑ روپے نقصان ہو رہا ہے۔ کوشش ہوگی داسوپن منصوبہ 2022تک مکمل ہو۔ گزشتہ حکومت نے آبی وسائل پر توجہ نہیں دی۔

وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ  تباہی کی ذمے داری قوم کو اور ہمیں اٹھانا ہوگی۔ گزشتہ حکومت نے داسو پن بجلی منصوبے پر جھوٹ بولا۔ عوام کی بہتری کے لیے اگر تنقید ہوتی ہے تو برداشت کروں گا۔ ناقص پالیسیوں کے باعث سالانہ 112 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ میں 18 ویں ترمیم کی بلیک میلنگ میں آنے والا نہیں ہوں۔

سندھ کو پانی چور نہیں کہا، یہ کہا کہ سندھ میں پانی چوری ہوتا ہے۔ داسو منصوبہ سے 12 روپے فی یونٹ والی بجلی 5 روپے میں ملنا تھی۔ داسو منصوبہ تاخیر کا شکار ہوچکا ہے۔ داسو منصوبہ  پر روزانہ 30 کروڑ روپے نقصان ہو رہا ہے۔ داسو منصوبہ پرعالمی بینک کے تحفظات آ چکے ہیں۔ کوشش ہوگی داسوپن منصوبہ 2022تک مکمل ہو۔

ٹھیک کام کروں تو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ گزشتہ حکومت نے آبی وسائل پر توجہ نہیں دی۔ وزارت آبی وسائل میں دوسرے اداروں کی مداخلت برداشت نہیں۔ سندھ میں پانی چوری روکنا بڑی ذمہ داری ہے، پوری کریں گے۔ جو وڈیرے سیاستدان پانی چوری کریں گے کارروائی ہو گی۔ واپڈا کو آبی وسائل سے نمٹنے کے لیے احکامات دیئے ہیں۔

حارث افضل  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں