مشہور زمانہ شاعر فیض احمد فیض کی 34ویں برسی

لاہور (پبلک نیوز) رومانوی اور انقلابی شاعری کے خالق فیض احمد فیض کی 34 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔ فیض احمد فیض کا لافانی کلام آج بھی ہر صاحب ذوق کی زبان پر تروتازہ ہے۔  اردو شاعری کا یہ عظیم شاعر بیس نومبر انیس سو چوراسی کو شعر و ادب کی دنیا کو خیر باد کہہ گیا۔

یہ خوں کی مہک ہے کہ لب یار کی خوشبو

کس راہ کی جانب سے صبا آتی ہے دیکھو

ظلم، ناانصافی اور جبرواستبداد کے خلاف جدوجہد میں زندگی بسر کرنے والے انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی 34ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی فکر اور الگ اندازا سلوب سے دنیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔

تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے

یوں نہ تھا میں نے فقط چاہا تھا یوں ہو جائے

 

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

وہ پسی ہوئی انسانیت کے لیے ضمیر اور یقین کی آواز بن گئے۔ نقش فریادی، دست صباء، زنداں نامہ، سروادی سینا، شام، شہر یاراں اور میرے دل میرے مسافر ان کے کلام کے مجموعے ہیں۔ سارے سخن ہمارے اور نسخہ ہائے وفا ان کی کلیات ہیں۔

مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

20 نومبر 1984 کو فیض احمد کی زندگی کا ظاہری باب تو بند ہو گیا لیکن اردو ادب اس عہد سازشاعر پر ہمیشہ فخر کرتا رہے گا۔

حارث افضل  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں