جعلی اکاؤنٹس اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس: جے آئی ٹی نے بلاول بھٹو سے ایک بار پھر جواب طلب کر لیا

کراچی (پبلک نیوز) جعلی اکاؤنٹس اور مبینہ منی لانڈرنگ کے معاملہ کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقات ٹیم (جے آئی ٹی) کی پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری سے ایک بار پھر جواب طلبی۔ جے آئی ٹی کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ملکیتی ایک کمپنی ظاہر نہیں کی۔ دوسری بار بھی غیر تسلی بخش جواب ملا تو تیسرا اور حتمی نوٹس بلاول کو بھیجا جا سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحققیاتی ٹیم نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ایک بار پھر جواب طلب کرلیا۔ پبلک نیوز کو ذرائع نے بتایا ہے کہ جے آئی ٹیم نے بلاول بھٹو سے پوچھا کراچی میں کلفٹن کی رہائشگاہ پر جس ریسٹورنٹ سے کھانا آتا ہے، اس کا بل کون دیتا ہے؟ ریسٹورنٹ کا 44 لاکھ روپے کا بل کس نے دیا؟ پانی کا بل، بجلی کا بل اور دیگر اخراجات کون دیتا ہے؟

بلاول بھٹو سے سوال کیا گیا کہ رائل انٹرنینشل، عمیر ایسوسی ایٹس، اوشن انٹر پرائزز اور لاجسٹکس ٹریڈنگ نے آپ کے بل کیوں دئیے؟ رائل انٹرنینشل، عمیر ایسوسی ایٹس، اوشن انٹر پرائزز اور لاجسٹکس ٹریڈنگ  سے بلاول کا کیا تعلق ہے؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس کی جے آئی ٹی بلاول بھٹو کے  پہلے جوابات سے غیر مطمئن ہے۔ دوسری بار بھی غیر تسلی بخش جواب ملا تو تیسرا اور حتمی نوٹس بلاول کو بھیجا جا سکتا ہے؟ جے آئی ٹی کی تحقیقات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ملکیتی ایک کمپنی ظاہر نہیں کی۔ جے آئی ٹی بلاول سے کمپنی ظاہر نہ کرنے کے بارے میں بھی سوال کر سکتی ہے۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں