جعلی اکاؤنٹ اسکینڈل: فریال تالپور و دیگر ملزمان سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواستیں دائر

اسلام آباد (پبلک نیوز) جعلی اکاؤنٹ اسکینڈل میں فریال تالپور اور دیگر ملزموں نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواستیں دائر کردیں۔ مؤقف اختیار کیا کہ قانون کی عدم موجودگی میں مختلف اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی نہیں بنائی جا سکتی۔

ملکی تاریخ کے سب سے بڑی جعلی بینک اکاونٹس اور منی لانڈرنگ کیس میں ملزمان کی نظر ثانی کی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر فریال تالپور کی جانب سے فاروق ایچ نایک جبکہ انور مجید اور دیگر کی جانب سے نظرثانی کی درخواست شاہد حامد ایڈووکیٹ اور عائشہ حامد ایڈووکیٹ نے دائر کی۔

فریال تالپور نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے تمام اداروں کی مدد کے باوجود کوئی قابل جرم شواہد تلاش نہ کر سکا اور بینکنگ کورٹ میں حتمی چالان داخل کرنے میں بھی ناکام رہا۔

درخواست میں  فریال تالپور نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی قانونی حثیت اور رپورٹ پر بھی سوالات اٹھا دئیے۔ انھوں نے کہا کہ قانون کی عدم موجودگی میں مختلف اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی بنائی ہی نہیں جاسکتی۔ ٹیم نے ہمارے مؤقف کو شامل کیے بغیر رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ جو مفروضوں اور شکوک و شبہات پر مبنی ہے۔

فریال تالپور نے کیس نیب کو ارسال کرنا بھی غیرقانونی اور بے جا قرار دے دیا۔ انور مجید اور دیگر نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے سات جنوری کے حکم نامے میں قانونی سقم ہیں۔

ان سقم کو درست کرنا ضروری قرار دیا۔ درخواستوں میں ملزمان نے عدالت سے سات جنوری کے فیصلہ پر نظرثانی کی استدعا کر دی۔ آصف علی زرداری پہلے ہی نظرثانی کی درخواست دائر کر چکے ہیں۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں