جعلی اکاؤنٹس، زرداری خاندان اور ایان علی

ماضی کی بات کی جائے تو  سپر ماڈل ایان علی 14 مارچ 2015 کو بینظیر انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے منی لانڈرنگ کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں دھر لی گئی تھیں۔ ان  کےسامان سے 5لاکھ 6ہزار 800 ڈالرز کی خطیر رقم بر آمد ہوئی ۔ ڈالر گرل یہ رقم دبئی لے جانا چاہ رہی تھیں۔

اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری پر اور ایان علی کی منی لانڈرنگ بارے سنگین الزامات عائد کرتے رہے۔ چوہدری نثار کہتے رہے کہ بلاول بھٹو زرداری کے ائیر ٹکٹس بھی اسی اکاؤنٹ سے خریدے گئے جس سے ایان علی کو رقم بھیجی جاتی تھی۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اس کی تردید اور شدید مذمت کرتے ہیں۔

یہاں سوال اٹھتے ہیں کہ ان الزامات پر آصف زرادری اور بلاول بھٹو سمیت سب  کیوں چپ ہیں ؟ کیوں انکی تردید یا تصدیق نہیں کی جا رہی؟ ماضی میں چوہدری نثار کو جواب دیا جا سکتا ہے تو جے آئی ٹی کو کیوں نہیں یا خاموشی کو رضامندی سمجھا جائے۔

ڈالر گرل ایان علی پر 5 لاکھ ڈالر سے زائد رقم سمگل کرنے کا کیس تو چل ہی رہا ہے، اب ان کا نام سندھ میگا منی لانڈرنگ سکینڈل میں بھی آ گیا ہے ۔ سندھ میگا منی لانڈرنگ سکینڈل  جے آئی ٹی پردورانِ تفتیش  انکشاف ہوا کہ ایان علی کے اکاؤنٹ کے ذریعہ کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی۔

ذرائع کہتے ہیں کہ ایک جعلی اکاؤنٹ سے سپر ماڈل کے اکاؤنٹ میں رقوم منتقل ہوئیں جن کے دستاویزی ثبوت بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری، بختاور اور آصفہ بھٹو کے ائیر لائن ٹکٹس بھی جعلی اکاؤنٹس سے خریدے گئے۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں