سپریم کورٹ نے سات سال بعد سزائے موت کا ملزم بری کر دیا

اسلام آباد (پبلک نیوز) خبردار، ہوشیار، عدالتوں میں جھوٹی گواہی دینے والے ہو جائیں تیار۔ سپریم کورٹ نے جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا۔

 

عدالتوں میں جھوٹی گواہی دینے والے جیل جائیں گے۔ سپریم کورٹ نے جھوٹے گواہوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا۔ سپریم کورٹ نے جھوٹی گواہی دینے پر ساہیوال کے رہائشی محمد ارشد کو 22 فروری کو طلب کر لیا۔ سی پی او فیصل آباد کو محمد ارشد کی سپریم کورٹ میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت بھی کر دی۔

 

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اس شخص کی جھوٹی گواہی پر ملزم زور آور کو سزائے موت دی اور ہائیکورٹ نے عمر قید کی سزا سنا دی، مگر باقی تمام گواہوں کے بیانات مختلف تھے وہ نچلی عدالتوں کو کیوں نظر نہیں آئے۔ اسی گواہ کی کوہنی پر خراش آئی اور اسی زخم کو فائیر آرم انجری کہہ دیا گیا۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اسی رضاکار سے جھوٹے گواہوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کرتے ہیں جس طرح وہ رضاکارانہ طور پر گواہ بنا اسی طرح رضاکارانہ طور پر اسے جیل بھی جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے نچلی عدالتوں سے سزا پانے والے ملزم زرو آور کو سات سال بعد شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

حارث افضل  10 ماه پہلے

متعلقہ خبریں