پاکستان کی معروف اداکارہ روحی بانو ترکی میں انتقال کر گئیں

پبلک نیوز: خوش شکل، خوبرو ، ہر دلعزیز اداکارہ روحی بانو ہم میں نہ رہیں۔ روحی بانو اعلیٰ تعلیم یافتہ اداکارہ تھیں۔ نفسیات میں ماسٹر زکیا۔ مگر افسوس کہ خود نفسیاتی بیماری شیٹزوفینیا کا شکار ہوئیں۔

70 کی دہائی کے ڈرامہ کرن کہانی سے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔ 70 کی دہائی کے وسط میں فلم انڈسٹری کا رخ کیا۔ پالکی، کائنات اور گونج اٹھی شہنائی جیسی فلموں میں لازوال اداکاری کے جوہر دکھائے۔ فلموں میں گنڈاسہ کلچر متعارف ہوا تو فلم انڈسٹری کو خیرباد کہنے ہی میں غنیمت جانی۔

80 کی دہائی میں زرد گلاب، کالا دائرہ جیسے لانگ پلیز میں بھی اداکاری کے جوہر دکھائے اور اپنا لوہا منوایا۔ اس کے بعد منو بھائی کے لانگ پلے دروازہ میں ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا جو خطرناک بیماری میں مبتلا تھا۔

 

ستم ظریفی دیکھیے کہ ڈرامہ کا یہ کردار ان کی حقیقی زندگی کے اندر شامل ہو گیا۔ قلعہ کہانی اور حیرت کدہ میں بھی انہوں نے اپنے فن کا لوہا منوایا۔ نفسیاتی عارضہ، اپنوں کے ناروا سلوک، شوہر سے خراب تعلقات اور غربت  سے تنگ روحی بانو کے لیے زندگی ایک ڈراؤنا خواب تھا۔

اس پہ ستم یہ کہ ان کے بیٹے علی کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ذاتی مکان تھا، کھنڈر بن گیا۔

روحی بانو نے تمغہء حُسنِ کارکردگی کو بھی زینت بخشی۔ مگر آج طویل بیماری اور پریشان حال زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔ روحی بانو داعیء اجل کو لبیک کہہ گئیں۔ افسوس کہ وہ بھی اپنے وطن میں نہیں بلکہ ترکی میں تھیں۔

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں