فواد چودھری کے جواب پر اپوزیشن پھر ناراض، ایوان سے واک آؤٹ

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیراطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ محمود خان اچکزئی اینڈ کمپنی نے اس ملک کے ساتھ کیا کیا ہے۔ ان لوگوں کو خدا کا خوف نہیں ہے۔ یہ لوگ پاکستان کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔

وزیراطلاعات فواد چودھری کی ایک بار پھر اپوزیشن پر سخت تنقید ان کا کہنا تھا کہ بتایا جائے بلوچستان  کے مسائل جون کے توں کیوں ہیں۔ محمود خان اچکزئی اینڈ کمپنی نے اس ملک کے ساتھ کیا کیا ہے۔ ان لوگوں کو خدا کا خوف نہیں ہے۔ یہ لوگ اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے۔ یہ لوگ پاکستان کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ محمود اچکزئی نے اپنے بھائی کو گورنر لگوایا۔

فواد چودھری کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کا 42 ٹریلین کہاں گیا۔ بلوچستان میں جن کی حکومت تھی وہ جواب دیں۔ ہمارے سارے وسائل پر ایک مافیا بیٹھا ہے۔ اس مافیا نے بابا فرید گنج شکر کی زمین کو نہیں بخشا۔ ان لوگوں نے مزارات سے وابستہ زمینوں کو نہیں چھوڑا۔ ماحول یہ ہوچکا ہے کرپشن کی بات کر تو یہ رونا شروع کر دیتے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ مشاہد اللہ خان نے میری غیر موجودگی میں بات کی، ایوان کو چلانا صرف حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن کی بھی ذمہ داری ہے، اپوزیشن لیڈر بتائیں ایوان چلانا اور اچھی باتیں کرنا صرف ہمارا کام ہے؟ مشاہد اللہ نے جو گفتگو کی وہ نامناسب ہے، مشاہد اللہ یا ان کی پارٹی کو معذرت کرنی چاہیے۔

یہ روانہ کہتے ہیں کہ وزیراعظم بھیک مانگ رہے۔ دس سالوں میں جو کچھ کیا گیا ہے اس کے بعد کیا کریں۔ یہ لوگ اتنے بلین کھا کر بیٹھے ہیں ان کا نام لینا ضروری ہے۔ اگر ان کے لیڈر سے متعلق باتیں کرنا چھوڑ دیں تو ایوان ٹھیک چلے گا۔

اپوزیشن نے فواد چودھری کی تقریر پر ایوان سے واک اوٹ کر دیا۔ جس پر چئیرمین سینیٹ نے فواد چودھری کا مائک بند کر دیا اور فواد چودھری کو ہدایت کی کے ایوان کا ماحول خراب نہ کریں۔ سینیٹ کی ایک کمیٹی تشکیل دیں جو اگاہ کرے کہ اس معاشی دہشت گردی کا ذمہ دار کون ہے۔ جس پر چئیرمین  سینیٹ نے یقین دہانی دلائی کہ پارلیمنٹری کمیٹی بنانے کے لیے سپیکر سے بات کروں گا۔

حارث افضل  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں