ایف اے ٹی ایف ایشیا پیسفک گروپ نے پاکستان سے متعلق جائزہ رپورٹ جاری کر دی

 

پبلک نیوز: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایشیا پیسفک گروپ نے پاکستان سے متعلق جائزہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ جس میں اسٹیٹ بینک سمیت دیگر اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے۔

 

رپورٹ کے مطابق منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے 40 سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔ بہتری کے باوجود پاکستان کے مالی اور قانونی نظام اور عمل درآمد میں کئی نقائص ہیں۔ رپورٹ میں مالی جرائم میں استعمال ہونے والی پراپرٹی اور کیش کی ضبطگی کے لیےاقدامات ناکافی قرار دیئے گئے۔

 

ایشیا پیسفک گروپ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ سے متعلق 2420 تحقیقات کی گئیں۔ ان میں سے 354 مقدمات چلے لیکن صرف ایک شخص کو سزا ہوئی۔ سرحدوں پر کیش ڈکلیریشن اور ضبطگی کا نظام بھی موئثر طریقے سے کام نہیں کر رہا۔ پاکستان نے دہشت گردوں کی فنڈنگ سے متعلق 228 مقدمات درج کیے۔

 

مذکورہ رپورٹ کے مطابق ان میں سے صرف 58 افراد کو سزا ہوئی۔ سب سے زیادہ 49 افراد کو سزا صوبہ پنجاب میں دی گئی۔ دیگر تمام صوبوں میں صرف 9 افراد کو سزا ناکافی ہے۔ پاکستان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت 66 تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 7600 افراد کو بھی اسی کیٹگری میں شامل کیا گیا۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں