چیئرمین نیب کے خلاف سیاسی دباؤ استعمال نہیں کیا جاسکتا:فواد چوہدری

اسلام آباد (پبلک نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات چودھری فواد حسین کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کو پارلیمانی کمیٹیوں میں نہیں بلایا جا سکتا، نہ ہی سیاسی دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ اگر اپوزیشن چاہتی ہے کہ احتساب کے عمل کو بہتر بنایا جائے تو پارلیمنٹ کا فورم استعمال کرے۔

سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات چودھری فواد حسین کا کہنا تھا کہ آج کا اجلاس بلانے پر سپیکر قومی اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ پہلی بار ریمانڈ کے دوران کسی کو اسمبلی کے اجلاس میں بلایا گیا۔ اپوزیشن لیڈر نے کھلے انداز میں اپنا موقف پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے مسئلوں پر ہمارا اختلاف اور اتفاق ہے۔ ہم نے ملک کو آگے لے کر چلنا ہے۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کو ایوان میں بات کا تاریخی موقع دیا۔ اپوزیشن کے جائز مطالبات میں حکومت ان کے ساتھ چلے گی۔ اپوزیشن کی خواہش پر آج کا اجلاس طلب کیا گیا۔ قومی خزانہ پاکستانی عوام کی امانت ہے، ہم سب پارلیمان اس کے جوابدہ ہیں۔ مسلم لیگ ن کی سیاست کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد ہوا۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن نے ہر ادوار میں اپنے خاندان کو نوازا اور آگے لے کر آئے۔ نیب چیئرمین کی تعیناتی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے مل کر کی۔ نیب کا ادارہ 1997 سے کام کر رہا ہے۔ مسلم لیگ ن نے اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف جھوٹے مقدمے بنوائے۔ مسلم لیگ ن نے عمران خان کے خلاف 32 جھوٹے مقدمے درج کرائے۔ اقتدار میں آ کر انتقامی کارروائیاں کرنا مسلم لیگ ن کا وطیرہ ہے۔ 1981 میں اتفاق فاؤنڈری  کے نام سے ایک کمپنی تھی۔ 1999تک سات کمپنیاں بن چکی تھیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف  کے خلاف کیسز  ہماری حکومت میں شروع نہیں ہوئے۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ صاف پانی اور آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کا معاملہ ہماری حکومت سے پہلے کا  ہے۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا ہماری حکومت میں نہیں ہوئی۔ ہم چوروں اور ڈاکوؤں کی بات کر رہے ہیں۔ احتساب کے عمل کو پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ جوڑنا زیادتی ہے۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ احتساب پر بات نہ کریں تو سب ٹھیک ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کو کرپٹ لوگوں کے خلاف احتساب کے لیے ووٹ دیا گیا۔ ہم کس طرح عوام کے اعتماد سے منہ موڑ سکتے ہیں۔ چیئرمین نیب کو پارلیمانی کمیٹیوں میں نہیں بلایا جا سکتا، نہ ہی سیاسی دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ اگر اپوزیشن چاہتی ہے کہ احتساب کے عمل کو بہتر بنایا جائے تو پارلیمنٹ کا فورم استعمال کرے۔ آج کا اجلاس بلانے پر10 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ مسلم لیگ ن نے اپنے دور حکومت میں مخالفین پر سیاسی مقدمات درج کیے۔ پی ٹی آئی کے 347 کارکنوں پر جھوٹے مقدمات درج کیے گئے۔

حارث افضل  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں