بلاول بھٹو، وزیراعلیٰ سندھ کے نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ مؤخر

اسلام آباد (پبلک نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات چودھری فواد حسین نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ موخر کردیا۔ کابینہ نے کہا اس معاملے پر سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے کا انتظار کیا جائے گا۔ معاملہ آئندہ اجلاس میں دوبارہ زیرغور آئے گا۔

 

وفاقی وزیر اطلاعات چودھری فواد حسین کی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے کئی ارکان منی لانڈرنگ کیس کے مرکزی کردار ہیں۔ آصف علی زرداری فریال تالپور اور مراد علی شاہ شامل ہیں۔ سندھ سے بیرون ملک غیر قانونی رقم بھجوانے کا سکینڈ ل 2015 میں سامنے آیا۔ ای سی ایل سے متعلق سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ موصول نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ملنے کے بعد غور کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی بھی درخواست پر غور کریں گے۔

 

چودھری فواد کا کہنا تھا کہ ای سی ایل میں شامل ناموں کا ایک کمیٹی جائزہ لے گی۔ سندھ کے عوام کا پیسہ ان پر خرچ ہونے کی بجائے بیرون ملک منتقل کیا گیا۔ کابینہ نے آئی سی ایل سے نام نکالنے کی وزارت داخلہ کی درخواست منظور نہیں کی۔ دسمبر کے مہینے میں برآمدات میں چار 4.5 فیصد اضافہ ہوا۔

 

 

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ائر مارشل ارشد ملک کو قائمقام چیف ایگزیکٹو آفیسر پی آئی اے تعینات کیا گیا ہے۔ سیکرٹری ایوی ایشن شاہ رخ کو ڈی جی کا اضافی چارج دیا گیا ہے۔ یو اے ای کے ساتھ  پینے کے صاف پانی کے پلانٹ پر معاہدہ کیا گیا ہے۔ کابینہ نے ای سی سی کے یکم جنوری کے فیصلوں کی توثیق کر دی ہے۔ کابینہ اجلاس میں ملک میں مہنگائی کی صورتحال پر بات کی گئی۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزارت قانون کو 48 گھنٹے میں منفی کیٹگری کی لسٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پاکستان کے اندر کاروبار کے مواقع وسیع کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔ گیس کی کمی کے معاملے سے نمٹنے کے لیے کام کیا گیا ہے۔ پاکستان میں 28 فیصد عوام کو سسٹم گیس فراہم کی جا رہی ہے۔ 63 فیصد عوام ایل پی جی استعمال کرتے ہیں۔ ہر سال 50 ارب روپے کی گیس چوری کا سامنا ہے۔ ماضی میں وزیراعظم ہاؤس میں 95 ہزار یونٹس بجلی استعمال ہوتی رہی۔ وزیراعظم ہاؤس میں اب 43 ہزار یونٹس تک بجلی استعمال ہو رہی ہے۔

 

اس موقع پر موجود وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی مخدوم خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں مہنگائی کا بے بنیاد واویلا کررہی ہیں۔ پی پی پی دور میں افراط زر میں 11.2 فیصد اضافہ ہوا۔ ماضی کی حکومتوں کے پہلے مالی سال مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا۔ فیصلہ کیا ہے کہ عوام کو مارکیٹ قیمتوں کے بارے میں مسلسل آگاہ رکھا جائے۔ منافع خوری کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں۔ قیمتوں کے تعین کے نظام کو صوبائی حکومتیں بہتر بنائیں۔ حکومت نے مہنگائی کا بوجھ عوام پر نہ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت مختلف پروگراموں کے ذریعے مہنگائی کا بوجھ کم کریگی۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں