ایف بی آر یکم اپریل سے تمام مشکوک ٹرانزیکشنز کے اعدادوشمار کا جائزہ لے گا

اسلام آباد (راجہ عثمان) بے نامی اکاؤنٹس کے خلاف  فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا کریک ڈاؤن، بے نامی اکاؤنٹس کے حوالے سے نوٹس بھیجنے شروع کر دیئے گئے۔ ایف بی آر یکم اپریل سے مشکوک ٹرانزیکشن کےاعدادوشمار کا جائزہ لے گی۔ سابق صدر آصف زرداری کے خلاف لگژری گاڑیوں کے معاملے پر کارروائی جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایف بی آر حکام نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ رواں سال چار ہزار تین سو اٹھانوے ارب روپے کا ٹیکس ہدف دیا گیا ہے۔ جس میں سے فروری تک دو ہزار پانچ سو چھیاسٹھ ارب روپے کا ٹارگٹ ملا اور اب تک دو ہزار تین سو تیس ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہو سکا ہے۔

ایف بی آر حکام نے اعتراف کیا کہ ایف بی آر کو ٹیکس اہداف میں دو سو چھتیس ارب روپے ٹیکس کمی کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز میں کمی کی وجہ سے پچھترارب روپے کم ٹیکس اکٹھا ہوافیڈرل پی ایس ڈی پی میں کمی کی وجہ سے ایف بی آر کو پچپن ارب روپے کی ٹیکس کمی کا سامنا کرنا پڑاجبکہ ٹیلی کام میں ایڈوانس ٹیکس کے خاتمے کی وجہ سے پینتس ارب روپے ٹیکس کم اکٹھا ہوا۔

ممبران کا کہنا تھا کہ امپورٹس میں کمی کی وجہ سے ٹیکس میں 20 ارب روپے کا ٹیکس کم اکٹھا ہوا ہے جبکہ دیگر اشیاء میں 15 ارب روپے کم ٹیکس اکٹھا ہوا ممبران کا کہنا تھا کہ اب تک ایف بی آر نے 424 افراد کے خلاف کارروائیاں کی ہیں ان پر 8 ارب 20 کروڑ روپے کے ٹیکس کیسز تھے ان افراد سے 3 ارب 80 کروڑ روپے ریکور کیے ہیں۔

ایف بی آر حکام کے مطابق کراچی میں ایک شخص سے 45 کروڑ روپےکی ریکوری کی گئی ہے2671 نان فائلرز نے ریٹرن جمع کروائی ہیں جبکہ کراچی لاہور اسلام آباد میں چھ ہزار کے قریب نئے ٹیکس فائلر ریکور کیے ہیں۔

ممبران کا کہنا تھا کہ 30ہزار ریٹرن روز آرہے ہیں، نئے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کی تعداد 2لاکھ سے زیادہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ایف بی آر حکام نے بتایا ہے کہ آصف زرداری کو لگژری گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے کارروائی جاری ہے۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں