چین سے 8 بڑے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر توجہ دی جارہی ہے: وزیر اعظم

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ نہ صرف حکومت کی اولین ترجیح ہے بلکہ منصوبے کا دائرہ کار وسیع کرنا چاہتے ییں تاکہ دیگر ممالک بھی اس اہم منصوبہ کا حصہ بنیں اور خطے میں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہو۔

 

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت دورہ چین کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ خارجہ شاہ محمود، وزیرِ اطلاعات چوہدری فواد، وزیر فوڈ سیکیورٹی صاحبزادہ محمد محبوب سلطان، وزیرِ تعلیم شفقت محمود، وزیرِ ریلوے شیخ رشید، وزیر توانائی عمر ایوب، ڈاکٹر عطاء الرحمن و دیگر حکام نے شرکت کی۔

 

اجلاس میں وزیرِ اعظم کے آئندہ دورہ چین کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سی پیک ون محض چند پاور پلانٹس اور 3 سڑکوں پر مشتمل تھا۔ موجودہ دور میں زراعت، تعلیم، صحت، پانی، فنی تعلیم، ٹرانسپورٹ، مین لائن ون کی اپ گریڈیشن جیسے منصوبے شامل ہیں۔ ایک محدود وقت میں کثیر تعداد کو غربت کے دائرے سے نکالنے کا چین کا کامیاب تجربہ قابلِ تقلید ہے۔ حکومت غربت کے خاتمے کے لیے چین کے کامیاب تجربہ سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔ زراعت، صنعت و دیگر شعبوں میں چین کی مہارت سے سیکھنا چاہتے ہیں۔

 

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبہ نہ صرف حکومت کی اولین ترجیح ہے بلکہ منصوبے کا دائرہ کار وسیع کرنا چاہتے ہیں تاکہ دیگر ممالک بھی اس اہم منصوبہ کا حصہ بنیں اور خطے میں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہو۔ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کی بے مثال ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس شعبہ میں تعاون کو فروغ دینے کا اہم مقصد ہے۔ کوشش ہے کہ کم از کم بیس ہزار پاکستانی طلبہ کے وظائف اور ان کی چین میں جدید علوم میں تعلیم حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو سکے۔

 

عمران کا کہنا تھا کہ آٹھ بڑے شعبوں مائننگ، ہائی سپیڈ ریلوے، مینوفیکچرنگ اور زراعت میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان جدید شعبوں میں چینی مہارت سے استفادہ کیا جاسکے اور وہاں ٹیکنالوجی ٹرانسفر بھی عمل میں آئے۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں