سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیراعظم عمران خان

 

اسلام آباد(پبلک نیوز) وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت  بورڈ آف انویسٹمنٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ مختلف شعبوں میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ دیا جائے گا، کاروبار سے متعلق وفاقی اور صوبائی سطح پر موجود مختلف قوانین کو ہم آہنگ و یکجا کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

 

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت  بورڈ آف انویسٹمنٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ توانائی عمر ایوب خان، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، چئیرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ زبیر گیلانی، ڈاکٹر سلمان شاہ، ڈاکٹر شمشاد اختر، احمر بلال صوفی و دیگر نے شرکت کی۔

 

اجلاس میں طے کیا گیا کہ مختلف شعبوں میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ دیا جائے گا۔ کاروبار کی راہ میں درپیش رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کیا جائے گا۔ اسپیشل اکنامک زونز کا قیام، صنعت و حرفت سے وابستہ افراد کو سہولیات بہم پہنچانے اور وفاقی و صوبائی سطح پر کاروباری برادری کے لیے سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اور اس ضمن میں مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔

 

چئیرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے  سرمایہ کاری کے حوالے سے مرتب کی جانے والی نئی اسٹرٹیجی برائے 2020-2024 کا پہلا تجویز کردہ مسودہ بھی وزیر اعظم کو پیش کیا گیا۔ بورڈ اراکین کی تجاویز کے مطابق مسودے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

 

وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے کاروبار سے متعلق وفاقی اور صوبائی سطح پرموجود مختلف قوانین کو ہم آہنگ و یکجا کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اسپیشل اقتصادی زونز کے حوالے سے بھی قوانین کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاکہ ان کو کاروبار دوست بنایا جاسکے۔

 

وزیرِ اعظم کی چئیرمین سرمایہ کاری بورڈ کو  کاروبار کے حوالے سے وفاقی و صوبائی قوانین کو ہم آہنگ اور مربوط بنانے کا عمل ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت، سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے پیش کی جانے والی سفارشات کی روشنی میں  متعلقہ قوانین کو صوبوں کے اشتراک سے مزید آسان بنایا جائے گا تاکہ غیر ضروری شرائط کو ختم کیا جائے۔

 

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کو ہر ممکنہ سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر مختلف قوانین، کاروبار کے لیے غیر ضروری قوائد و ضوابط، سرکاری محکموں کی جانب سے کاروباری طبقے کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی روش اور کرپشن نے کاروباری طبقوں کے لیے مسائل پیدا کیے۔ جس کی وجہ سے صنعتی ترقی جمود کا شکار ہوئی۔

 

انھوں نے مزید کہا کہ ملکی آبادی میں نوجوانوں کی کثیر تعداد، ارزاں ورک فورس کی دستیابی اور لبرل حکومتی پالیسی سرمایہ کاری کے لئے نہایت موزوں ماحول فراہم کرتی ہیں۔ جس سے بھرپور استفادہ کیا جا نا چاہیے۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں