جے آئی ٹی رپورٹ، وفاقی وزیر اعظم سواتی نے تحریری جواب جمع کروا دیا

اسلام آباد(پبلک نیوز) آئی جی اسلام تقرری اور وفاقی وزیر اعظم سواتی کی مداخلت کے معاملے میں سپریم کورٹ نے دو عدالتی معاونین کا تقرر کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ رائے طلب کر لی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ غریب آدمی کی بھینس زمین میں گھسنے پر عورتوں کو جیل بھجوا دیا گیا۔ کیا یہ حاکم وقت کا کردار ہے؟

 

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس سماعت کی۔ وفاقی وزیر اعظم سواتی کی جانب سے جے آئی ٹی رپورٹ کے جواب میں تحریری جواب جمع کروا دیا گیا۔ چیف جسٹس نے اعظم سواتی کے وکیل علی ظفر سے کہا کہ کیوں نہ ان کے موکل کیخلاف آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تحقیقات کرائی جائیں۔

متعلقہ خبر:آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس،اعظم سواتی نے جواب جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا

بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ عدالت نے دس سوال اُٹھائے تھے، جس پر چیف جستس نے ریمارکس دئیے کہ دس میں ایک بڑا سوال یہ ہے کہ آپ حاکم وقت ہیں۔ غریب آدمی کی بھینس زمین میں گھسنے پر عورتوں کو بھی جیل بھجوا دیا، کیا یہ حاکم وقت کا کردار ہے؟

 

چیف جسٹس نے آئی جی اسلام اباد عامر ذوالفقار خان کو روسٹرم پر بلا کر پوچھا کہ کیا وہ نووارد ہیں، جو اس کیس کا انہیں کچھ پتہ نہیں؟ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کیا آپ کی اسلام آباد میں ایک ماہ کی یہ کارکردگی ہے، آئی جی اسلام اباد کا موقف تھا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہونے کی بنا پر انہوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ عدالت نے سابق اتارنی جنرل خالد جاوید اور فیصل ایڈووکیٹ صدیقی عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے ان سے غیر جانبدار رائے طلب کی ہے۔ آئندہ سماعت چوبیس دسمبر کو ہو گی۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں