مظالم اور ہٹ دھرمی کے حوالے سے بھارت اور اسرائیل کی پالیسی ایک جیسی ہے: شیریں مزاری

پبلک نیوز: وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کی واضح مؤقف اور  پالیسی ہے کہ یمن کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ او آئی سی جس طر ح جا رہی ہے اس سے وہ کمزور ہو گئی ہے۔ او آئی سی میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دوسرے مملک بھی شریک ہو سکیں گے۔

القدس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اقتدار میں آتے ہی امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ اسرائیل دیکھا دیکھی میں مودی نے بھی کشمیر کو حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔ بھارت اور اسرائیل کی پالیسی ایک جیسی ہے۔ جون کے پچیس کو ایک ڈیل آف دی سنچری کی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے اس ڈیل سے فلسطین کو خرید لے گا۔   

انھوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ کہتا ہے ایران کو ختم کر دیں گا۔ امریکی صدر نے شاہد تاریخ کا صحیح مطالعہ نہیں کیا۔ اس وقت پوری دنیا میں مسلم اُمّہ آپس میں ہی لڑ رہی ہے۔ ہمیں اس وقت اپنے اندر اتحاد کی ضرورت ہے۔ جب تک مسلم اُمّہ اپنا راویاں نہین بدلے گی کچھ نہیں کر پائے گی۔ القدس، فلسطین اور دیگر متنازعہ علاقوں کو اتحاد کے بغیر حاصل نہیں کر سکتے۔ مسلمانوں کو اپنی پالیسی کو دیکھنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، ایران، سعودی عرب اور دیگر مسلم اُمّہ کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ مسلمان ہم کسی بات پر اکھٹے نہیں ہوسکتے۔ یہاں تک کہ مسلمان ایک دن عید بھی نہین مناتے۔ وزیر سائنس نے مون ائپ متعارف کروا کر ایک اچھا اقدام کیا ہے۔ کتنے مسلمان مملک نے اسرائیل کو ایک ملک تسلم کیا ہے۔   

شیریں مزاری نے کہا کہ ہمارے اوپر بھی اسرائیل کو ملک مانے کے لئے پریشر ہے۔ پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو ملک تسلم نہیں کریں گا۔ پاکستان ہمیشہ فلسطینیوں کے ساتھ ہے اور رہے گا۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں