اصغر خان کیس میں مناسب ثبوت نہ ملنے پر کیس کو کسی بھی عدالت میں چلانا ممکن نہیں: ایف آئی اے

اسلام آباد (پبلک نیوز) ایف آئی اے کا وہی سوال، ثبوت نہیں کیس کیسے چلائیں؟ اصغر خان کیس میں ایف آئی اے اور وزارت دفاع نے جوابات سپریم کورٹ میں جمع کروا دیے جبکہ وزارت دفاع مزید گواہ تلاش کر رہی ہے۔

 

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں ایف آئی اے نے موقف اختیار کیا ہے کہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کے باوجود کچھ نہ ملا۔ اپنے جواب میں ایف ائی اے نے کہا ہے کہ بے نامی بینک اکاؤںٹس کی تحقیقات سمیت دیگر اہم گواہوں کے بیانات ریکارڈ کئے۔ مجیب الرحمان شامی اور حبیب اکرام نامی صحافیوں کے انٹرویو بھی کیے لیکن کچھ نہ ملا، مرکزی گواہ برگیڈیئر ریٹائرڈ حامد سعید اور ایڈووکیٹ یوسف میمن بھی خاطر خواہ ثبوت نہیں دے سکے۔ ایف ائی اے نے بتا دیا، مناسب ثبوت نہ ملنے کے باعث کیس کو کسی بھی عدالت میں چلانا ممکن نہیں۔

 

وزارت دفاع نے اپنے جواب میں عدالت کو بتایا ہے کہ تحقیقات کے لیے کورٹ آف انکوائری تشکیل دی گئی۔ جس نے چھ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے، تمام شواہد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مزید گواہوں کی تلاش جاری ہے۔ وزارت دفاع نے تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم کا اظہار بھی کیا۔

حارث افضل  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں