العزیزیہ ریفرنس کی سماعت،خواجہ حارث کے حتمی دلائل پیر کو بھی جاری رہیں گے

اسلام آباد(پبلک نیوز) العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس میں خواجہ حارث کے حتمی دلائل طویل ہو گئے، پیر کو بھی جاری رہیں گے خواجہ حارث نے کہا کہ جن دستاویزات کی بنیاد پر یو اے ای حکام کو ایم ایل اے لکھا گیا، وہ عدالت کے سامنے نہیں۔

 

احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے سماعت کی، نواز شریف کے وکیل کے حتمی دلائل آج بھی مکمل نہ ہو سکے خواجہ حارث نے کہا کہ واجد ضیاء کے مطابق بارہ ملین درہم کی کوئی ٹرانزکشن نہیں ہوئی، جج ارشد ملک نے سوال کیا کہ گلف اسٹیل کے زمے واجب الادا رقم کیسے ادا ہوئی؟ کیا واجب الادا رقم بینک نے ادا کرنا تھی، کوئی بینک گارنٹی تھی؟

 

خواجہ حارث نے کہا کہ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ واجب الادا رقم کی ادائیگی کیلئے کوئی بینک گارنٹی تھی، جب واجد ضیاء نے اس ادائیگی کا ذکر کیا تو ان کے پاس بینک گارنٹی سے متعلق معلومات نہیں تھیں، جج ارشد ملک نے کہا کہ معمول کی پریکٹس تو یہی ہے کہ نئے قرض کیلئے پہلا ادا کرنا پڑتا ہے، طارق شفیع نے بھی نئے قرض سے پہلے پرانا قرض واپس کیا ہو گا؟

 

خواجہ حارث نے کہا کہ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ قرض تھا ہی نہیں یا واپس کر دیا تھا، جے آئی ٹی نے عبد اللہ قائد آہلی کو شامل تفتیش کرنے سے گریز کیا، جے آئی ٹی نے پچیس فیصد شئیرز کی فروخت کے گواہوں کا بھی بیان قلمبند نہیں کیا، یہ بھی جھوٹ بولا گیا کہ معاہدے کے گواہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، جے آئی ٹی کے ممبران نہ تو یو اے ای وزرات خارجہ گئے نہ پاکستانی قونصل خانے۔

 

خواجہ حارث بولے کہ انیس سو اسی کے معاہدے کے پیچھے یو اے ای وزرات خارجہ اور پاکستانی قونصل خانے کی مہر موجود ہے، جے آئی ٹی کی طرف سے کہا گیا کہ وہاں کی عدالت سے معاہدے کا ریکارڈ نہیں ملا، خواجہ حارث نے جج ارشد ملک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بہت چیزوں میں فاضل جج کی اپروچ بہت زبردست ہے، انہوں نے کہا کہ فاضل جج بہت اچھے وکیل ہوسکتے تھے۔ خواجہ حارث کے معاون وکیل نے لقمہ دیا کہ ججز بھی تو ایسے ہی اچھی اپروچ والے ہونے چاہئیں۔

 

جج ارشد ملک نے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت ہی نہیں ہے کہ طارق شفیع میاں شریف کے بے نامی تھے، جے آئی ٹی بھی مانتی ہے، کوئی ایسی چیز ریکارڈ پر نہیں ہے کہ میاں شریف نے کہا ہو کہ طارق شفیع میرے بے نامی تھے، جج ارشد ملک نے خواجہ حارث کے دلائل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بڑے اچھے طریقے سے کیس پیش کیا۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں