آئی ایم ایف ڈیل کے بعد قیمتیں کنٹرول کرنے کیلئے بڑے فیصلے کیے ہیں: مشیر خزانہ

اسلام آباد (پبلک نیوز) مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کا مقصد ہے جائیدادوں کی رجسٹریشن ہو۔ اسکیم سے لوگوں کو ڈرایا، دھمکایا نہیں جائے گا۔ اسکیم سے بیرون ملک اور اندرون ملک کالا دھن سفید کیا جا سکتا ہے۔ عوام 30 جون تک اسکیم سے مستفید ہوسکتے ہیں۔

ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے حوالے سے پریس بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسکیم کو آسان بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسکیم میں ریٹس اور تعداد زیادہ نہیں رکھی گئی۔ رئیل اسٹیٹ کی ویلیو ایک اعشاریہ پانچ فیصد ہو گا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی چار فیصد ٹیکس جمع کروا کر ایمنسٹی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

 

 

انھوں نے کہا کہ ان افراد کو اپنی وائٹ رقم پاکستان لانا ہوگی۔ اگر پاکستان نہیں لائیں گے تو ان کو دو فیصد اضافی ٹیکس جمع کروانا ہوگا۔ بے نامی اکاؤنٹس اور بے نامی جائیدادوں کے مالک بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ برآمدات اور درامدات میں فرق کو کم کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف ڈیل کے بعد قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے بڑے فیصلے کیے گئے ہیں۔

حفیظ شیخ نے بتایا کہ بجلی کی قیمتیں بڑھنے سے تین سو یونٹس تک استعمال کرنے والے صارفین پر اس کا اثر نہیں پڑے گا۔ احساس پروگرام کی رقم کو دوگنا کیا جارہا ہے۔ بجلی پر چھوٹے صارفین کیلئے 275 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کالادھن رکھنے والے افراد کیلئے یہ آخری موقع ہے۔ بیوروکیٹس اور سیاست دان ایمنسٹی اسکیم سے مستفید نہیں ہوسکتے۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں