آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری سے قبل معاہدہ کی تفصیلات نہیں بتا سکتے: مشیر خزانہ

اسلام آباد (پبلک نیوز) مشیر خزانہ حفیظ شیخ وفاقی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری سے قبل معاہدہ کی تفصیلات نہیں بتا سکتے۔ تیل کی قیمت حکومت کے اختیار میں نہیں ہے۔ سبسڈی دے کر کمزور طبقہ کو تحفظ دیں گے، آئی ایم ایف سے سٹاف لیول پر مذاکرات میں اتفاق ہوا ہے، آئی ایم ایف کی شرائط، محصولات میں اضافہ، اداروں کی بہتری اور خساروں میں کمی ہے۔

وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار، وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان، مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان، وزیر مملکت برائے محصولات حماد اظہر اور چئیرمین بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) شبر زیدی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معیشت کے اعدادوشمار عوام تک پہچائیں جائیں۔

انھوں نے کہا کہ جب یہ حکومت آئی تو پاکستان کا قرضہ 31000 ارب روپے تھا۔ بیرون ملک سے لیا گیا قرض سو ارب روپے سے زائد تھا۔ فارن ریزورز 18 ارب روپے سے نیچے گرچکی تھیں۔ ایکسپورٹ 20 ارب ڈالر گرچکی تھیں۔ گردشی قرضہ 1400 ارب روپے تھا۔ جی ڈی پی پانچ فیصد پہ تھا۔

حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ حکومت نے دوست ممالک سے 9.2ارب ڈالر اکٹھے کیے۔ حکموت نے درآمدی ڈیوٹی لگا کر درآمدات کو دو ارب ڈالر کم کیا۔ گردشی قرضے 38 ارب روپے روزانہ تھا جسے کم کر کے 12 ارب روپے تک لایا گیا ہے۔ پانچ ایکسپورٹ سیکٹر کو مراعات دی گئی ہیں۔

پریس بریفنگ میں انھوں نے بتایا کہ اگلے چند ہفتوں میں آئی ایم ایف بورڈ قرض کی منظوری دے گا۔ سعودی عرب سے سالانہ 3.2 ارب ڈالر تاخیری ادائیگیوں پر تیل ملے گا۔ آئی ایم ایف پیکج کے ساتھ ہی ایشیائی ترقیاتی بینک سے تین ارب ڈالر لیں گے۔ یہ پروگرامز لون نہیں ہوں گے۔ اسلامک بینک سے 1.2 ارب ڈالر ملیں گے۔ آنے والے سال میں معیشت بہتری کا جانب جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں حکومتی اخراجات کو کم کیا جائے گا۔ بجلی کے گردشی قرضے کو ماہانہ 8 ارب روپے تک لایا جائے گا۔ 2020 تک گردشی قرضہ کو صفر پر لایا جائے گا۔ محصولات میں اضافہ کیا جائے گا۔ آئندہ بجٹ میں ٹیکس اہداف 5550 ارب روپے رکھے جائیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ ملک میں صرف بیس لاکھ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ تنخواہ دار طبقے کا ٹیکس کاٹا جاتا ہے۔15 سے بیس فیصد لوگ ملک کا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ٹیکس ادا کرنے والوں پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ 3لاکھ 41 ہزار صنعتوں میں گیس کنکشن لیے ہوئے ہیں۔ صرف چالیس ہزار فائلر ہیں۔

اپنی گفتگو میں مزید آگاہ کیا کہ28 ممالک سے ایک لاکھ 52 ہزار پاکستانیوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔ تیل کی قیمتیں عالمی منڈی کی قیمتوں کی وجہ سے بڑھائی جاتی ہیں۔2014 کے مقابلہ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں دوگنا سے بھی زائد ہیں۔ مہنگائی شرح 8.5 فیصد ہے اس پر چیک رکھا جائے گا۔ مالی خسارہ دو اعشاریہ تین کھرب روپے تھا۔

عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ اثاثے ظاہر کرنے کی سکیم کو پرکشش بنایا ہے۔ چار فیصد ادا کرکے اثاثے ظاہر کیے جا سکتے ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کو بھی ظاہر کرنے کا موقع دیا گیا ہے۔ چند دنوں میں سٹاک مارکیٹ میں سات فیصد اضافہ ہوا جو دس سال میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ آنے والا سال یہ استحکام کا سال ہے۔

معیشت کو خطرات سے بچا کر پائیدار بنیاد دے دی جو آئندہ برسوں میں ترقی کا سبب بنے گی۔ حکومتی اخراجات کو کم سے کم کریں گے۔ اس میں سول اور فوجی قیادت میں اتفاق ہے۔ ٹیکس ادائیگی گیارہ فیصد ہے جبکہ خطہ میں یہ سولہ فیصد ہے۔ صرف بیس لاکھ افراد ٹیکس بھرتے ہیں۔ صرف تین سو ساٹھ ادارے پورے پاکستان کا پچاسی فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ تین لاکھ صنعتی کنکشن والے ٹیکس ادا نہیں کرتے۔

پانچ کروڑ بنک اکاؤنٹس ہیں۔ صرف دس فیصد اکاؤنٹ ہولڈرز ٹیکس ادا کررہے ہیں۔ افراط زر کی بنیادی وجوہات ڈالر کی قدر اور تیل کی قیمت ہے۔ تیل اس وقت ستر ڈالر کے قریب ہے۔ تیل کی قیمت حکومت کے اختیار میں نہیں ہے۔ سبسڈی دے کر کمزور طبقہ کو تحفظ دیں گے۔ فوڈ انفلیشن تین اعشاریہ آٹھ فیصد ہے۔

مانیٹری پالیسی کو استعمال کر کے افراط زر کو قابو میں رکھا جائے گا۔ آئی ایم ایف سے سٹاف لیول پر مذاکرات میں اتفاق ہوا ہے۔ اس کی تفصیلات آئی ایم ایف کے بورڈ سے منظوری سے پہلے نہیں بتایا جا سکتا۔ حزب اختلاف میں بیٹھے ارکان تب سوال کریں اگر وہ خود آئی ایم ایف کے پاس نہ گئے ہوں۔ آئی ایم ایف کی شرائط، محصولات میں اضافہ، اداروں کی بہتری اور خساروں میں کمی ہے۔ یہ مشورے دوست ممالک بھی دیتے ہیں۔ یہ چیزیں ہمیں معاشی استحکام کے لیے ویسے بھی کرنی ہیں۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں