جب تک آئی ایم ایف  سے اچھا پروگرام نہیں ملتا، قرض نہیں لیں گے: اسد عمر

اسلام آباد (پبلک نیوز) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستانی معیشت کی ابتر صورتحال پہلے بھی ہوئی۔ 1998 سے 2008 تک مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ نومبر 2017 سے جولائی 2018 تک روپے کی قدر 23 روپے گر چکی تھی۔ جب تک آئی ایم ایف سے اچھا پروگرام نہیں ملتا قرض لینے کا فیصلہ نہیں کریں گے۔

 

وزیر خزانہ اسد عمر نے کمیٹی کو آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج اور معیشت کی ابتر صورتحال سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ پہلے بھی ملک مالی بحران کا شکار رہ چکا ہے، جب وزیر خزانہ کا قلمدان سنبھالا تو   فنانسنگ گیپ 12 ارب ڈالر تھا۔ 1998 سے 2008 تک مالی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ اسد عمر نے بتایا کہ سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر مل گئے۔ ایک ارب جنوری میں ملے گا۔ سعودی عرب سے 3 فیصد سود پر قرضہ لیا گیا۔

مئی، جون،جولائی میں جاری کھاتوں میں ہر ماہ خسارہ 2 بلین ڈالر تھا۔ مالیاتی خسارہ رواں سال جی ڈی پی کا 2 فیصد ہے۔ نومبر 2017 سے جولائی 2018 تک روپے کی قدر 23 روپے گر چکی تھی۔ جاری کھاتوں میں خساہ 2 بلین ڈالر ماہانہ سے کم  ہو کر ایک بلین ڈالر رہ گیا ہے۔ فنانسگ گیپ پورا کرنے کے لیے سعودیہ عرب سے مالی امدا کے حوالے سے اقدامات کررہے ہیں۔ سعودیہ سے تین سال کے لیے ماہانہ 270 ملین ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات ڈیفر پے منٹس پر حاصل کیا جائیں گی۔

اسد عمر نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا مالیاتی خسارہ بہت زیادہ ہے۔ روپے کی قدر بھی زیادہ ہے اور معاشی اصلاحات کا عمل سست ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاور سیکٹر میں سالانہ اربوں روپے کا نقصان نہیں کرسکتے۔ وزیرخزانہ نے کہا آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کی جلدی نہیں۔ آئی ایم ایف سے معاشی ریفارمز پر اختلافات ہیں۔ انہوں نے کہا جب تک آئی ایم ایف سے اچھا پروگرام نہیں ملتا قرض نہیں لیں گے۔ یہ معاشی اور سیاسی مسئلہ ہے، ہم نے جہاز کو لینڈ کرانا ہے کریش لینڈنگ نہیں کرانی۔

حارث افضل  1 سال پہلے

متعلقہ خبریں