پاکستان کو بلیک لسٹ کروانے کیلئے بھارت سخت لابنگ کر رہا ہے: وزیر خزانہ

اسلام آباد (پبلک نیوز) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت بجٹ تجاویز کے لیے ایک کمیٹی بھی بنا رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے بات چیت میں گیپ کم ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ ایکسچینج ریٹ مارکیٹ پر چھوڑ دیں۔ آئی ایم ایف مالیاتی خسارے پر قابو پانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

 

وزیر خزانہ اسد عمر کی کمیٹی کو معاشی صورت حال پر بریفننگ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ نئے مالی سال 2019-20 کا بجٹ آرہا ہے۔ قائمہ کمیٹی بجٹ کے فریم ورک کے لیے تجاویز دے۔ حکومت بجٹ تجاویز کے لیے ایک کمیٹی بھی بنا رہی ہے۔ آئی ایم ایف سے بات چیت میں گیپ کم ہوا ہے۔ آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ ایکسچینج ریٹ مارکیٹ پر چھوڑ دیں۔ آئی ایم ایف مالیاتی خسارے پر قابو پانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ آئی ایم ایف بجلی اور گیس کے شعبہ میں نقصانات پر قابو پانے پر زور دے رہا ہے۔ ہم بھی نقصانات پر قابو پانا چاہتے ہیں۔ آئی ایم ایف سے اصلاحات کی رفتار پر اختلافات ہیں۔

 

اسد عمر کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاونٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات کافی ہیں۔ حالات اتنے خراب تھے کہ بینکوں نے قرضہ دینا بند کر دیا تھا۔ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 180 پر نہیں جارہا ہے۔ ایک انگریزی اخبار نے غلط خبر لگائی۔ 20 اگست کے بعد لیے گئے تمام قرضوں کی تفصیلات کمیٹی سے شیئر کریں گے۔ ایف اے ٹی ایف کے تحت کچھ اہداف جنوری میں پورے کرنے تھے۔ کچھ مئی اور جون اور کچھ ستمبر تک پورے کیئے جائیں گے۔ ایف اے ٹی ایف کے مطالبے پر ممنوعہ تنظیموں کو ہائی رسک ڈکیلئر کر دیا گیا ہے۔

 

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کو بلیک لسٹ کروانے کے لیے سخت لابنگ کر رہا ہے۔ پلوامہ کے بعد بھارت نے لابنگ تیز کر دی۔ اب ایک قانون سازی پر اختلاف رائے ہے۔ گزشتہ حکومت نے ایک آرڈیننس پاس کیا تھا۔ اگلے تین سے چار ماہ اہم ہے۔ ملک کے لیے منی لانڈرنگ بہت بڑا چیلنج ہے۔ ایف اے ٹی ایف مشکوک ٹرانزیکشنز میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کے ساتھ جنوری تک معاملات کلیئر ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کا اگلا جائزہ مئی میں ہوگا۔

 

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر کی وجہ سے ماضی میں معیشت کو نقصان ہوا۔ ماضی میں برآمدات دشمن معاشی پالیسی رہی ہے۔ کمیٹی ارکان کا مہنگائی اور مالیاتی خسارے میں اضافہ پر اظہار تشویش ہے۔ ایف اے ٹی ایف پر کمیٹی کو ان کیمرہ بریفنگ دینے کو تیار ہوں۔ کمیٹی نے ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر زیلی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ ایکسچینج ریٹ کو فری چھوڑ دیا تو قابو سے باہر ہو جائے گا۔ اب زرمبادلہ زخائر میں کافی بہتری آچکی ہے۔ ہم بتدریج مارکیٹ بیسڈ سسٹم کی طرف جارہے ہیں۔ بیررون ملک سے 2.6 ارب ڈالر گزشتہ سال آئے تھے۔ اس سال عالمی اداروں سے 2.3 ارب ڈالر حاصل ہوئے۔ اس سال 5.6 ارب ڈالر حاصل ہونے کا امکان ہے۔ بجلی کی قیمتوں کو الیکشن کے لیے استعمال کریں گے تو مہنگائی تو ہوگی۔ بجلی شعبے میں ایک سال کے اندر ساڑھے چار سو ارب روپے کا نقصان کیا گیا۔

 

انہوں نے کہا کہ گیس سیکٹر میں قیمتیں نہ بڑھا کر 150 ارب کا نقصان کیا گیا۔ پیپلز پارٹی دور میں مہنگائی میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔ لیگی حکومت میں مہنگائی میں 5 فیصد، سے زیادہ اضافہ ہوا۔ ہمارے دور میں مہنگائی میں 2.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بڑے بڑے خسارے ختم کرنے کے لیے اقدامات سے مہنگائی ہوتی ہے۔ مہنگائی سے لوگوں کو تکلیف پہنچ رہی ہے۔ گزشتہ دور کی نسبت مشکل فیصلے کیے گئے ہیں۔

حارث افضل  6 روز پہلے

متعلقہ خبریں