وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے منی بجٹ پیش کر دیا

اسلام آباد (پبلک نیوز) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کر دیا ہے۔ ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن کی جانب سے خوب شور شرابہ کیا گیا۔

اسد عمر کا کہنا ہے کہ 6ماہ میں زرعی قرضوں میں 22 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایس ایم ای سیکٹر کے بینک قرضوں پر آمدن کا ٹیکس20 فیصد کررہے ہیں۔ غریبوں کے لیے گھر بنانے ہیں۔ چھوٹے سے درمیانی اداروں کیلیے قرضوں پر آمدن پر ٹیکس آدھا کررہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چھوٹے بزنس اداروں پر ٹیکس آدھا کیا جارہا ہے۔ 5 ارب کی قرض حسنہ کی اسکیم لارہے ہیں۔ فوری طور پر فائلر کی بینکنگ ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔ غریبوں کیلیےگھر بنانے ہیں ،گھربنانےپر مراعات دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے گھروں پر بینک قرض آمدنی کا ٹیکس39 سے کم کرکے 20 فیصد کر رہے ہیں۔ پانچ ارب روپے کا ریوالونگ فنڈ قائم کر رہے ہیں۔ بینک ڈیپازٹس پر ودہولڈنگ لگا ہوا ہے۔ نیوز پرنٹ میڈیا کو امپورٹ ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ دے رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ بینک کی شرح سود کم کر کے 20فیصد کر دی گئی۔ زرعی قرضوں کو بھی 39سے 20فیصد پر لے کر آئیں گے۔ چھوٹے گھروں کے لیے 5ارب کا قرض حسنہ دیں گے۔ فائلرز پر بینک ٹرانزیکشن ودہولڈنگ ٹیکس ختم کر رہے ہیں۔

اسد عمر نے واضح کیا کہ چھوٹے شادی ہال پر ٹیکس 20 ہزار سے کم کر کے 5ہزار روپے کر دیا۔ سرمایہ کاروں کے لیے سادہ اور شفاف نظام لے کر آئیں گے۔ نیوز پرنٹ  پر مکمل ٹیکس ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے۔ سرمایہ کاری پرٹیکس لگانا بہت بڑاظلم ہے۔

اپنی تقریر میں آگاہ کیا کہ حقیقی جمہوریت کے لیے آزاد صحافت چاہیے۔ نان فائلر800سے1300سی سی تک گاڑی خرید سکے گا۔ چندہفتوں میں اسٹاک ایکسچینج میں 3ہزار پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ یکم جولائی سے کمپنیوں پر سیونگ ٹیکس ختم ہوجائے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موبائل فون کے ٹیکس پر 3ٹیکسوں کو ایک میں ضم کر دیا۔ سستے فونز پر ٹیکسز کو کم کیا جا رہا ہے۔ قومی و عالمی اسپورٹس لیگ میں شرکت کرنے والوں کو ٹیکس کی چھوٹ، خام مال پر درآمدی ڈیوٹی کم کر ر ہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت اور کاروباری طبقہ ایک ہی ٹیم کا حصہ ہیں۔ 200روپے یوریا فی بوری کمی کردیں گے۔ کسانوں کے لیے پیداواری یونٹ کو4سے 6ہزار یونٹ کر رہے ہیں۔ کسانوں کے لیے ڈیزل انجن کو سستا کررہےہیں۔ ہمارے ملک کا مستقبل روشن ہے۔

ان کا اپنی تقریر کے آغاز میں کہنا تھا کہ منی بجٹ اصل میں بجٹ نہیں ہے، یہ معیشت کی اصلاحات کا پیکج دیا جا رہا ہے۔ ہم خادم اعلیٰ بولتے نہیں، سمجھتےہیں۔ ہم عوام کو اپنا حکمران سمجھتے ہیں۔ ہم نے مشکل فیصلے کیے ہیں۔ عوام کو معلوم ہے علی بابا چالیس چور کونسی معاشی دہشت گردی کر کے گئے۔ ڈھائی سے3 ہزار ارب کا قوم کو مقروض کردیا گیا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ یہ لوگ تو معیشت کو آئی سی یو میں چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ جب تک سرمایہ کاری نہیں ہوگی معیشت ٹھیک نہیں ہوسکتی۔ ہمیں برآمدات بڑھانی ہیں۔ ہماری محصولات اور اخراجات میں توازن تک معیشت ٹھیک نہیں کرسکتے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ برآمدات بڑھی ہیں اور درآمدات کم ہوئی ہیں۔ تجارتی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا ہے۔ عوام سمجھتی ہے مشکل فیصلے ناگزیر تھے۔ یہ جھوٹ کا پلندہ عوام کو سناتے رہے، کاش ان کا ضمیر جاگتا۔

مکمل ویڈیو کا لنک:

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں