ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ قیاس آرائیاں ہیں: وزیر خزانہ

کراچی (پبلک نیوز) وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ 8 ماہ میں خسارے کو بڑھنے سے روکا۔ ڈالر کی قیمت سے متعلق آئی ایم ایف سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ قیاس آرائیاں ہیں۔ جاری کھاتوں کے خسارے میں 72 فیصد کمی آئی۔ بروقت اقدامات سے تجارتی کرنٹ اکاؤنٹ خساروں کو کم کیا۔

 

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تقریب سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا کہ پرانے قرضوں کی واپسی اور سود ادا کرنا ہے۔ ن لیگ کی حکومت میں اڑھائی ارب ڈالر کا خسارہ تھا۔ 8 ماہ میں خسارے کو بڑھنے سے روکا۔ ڈالر کی قیمت سے متعلق آئی ایم ایف سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ ڈالر کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کی بنیادی وجہ قیاس آرائیاں ہیں۔ جاری کھاتوں کے خسارے میں 72 فیصد کمی آئی۔ بروقت اقدامات سے تجارتی کرنٹ اکاؤنٹ خساروں کو کم کیا۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ پاکستان 300 سے 350 ارب ڈالر کی اکانومی ہے اور دنیا 70 ٹریلین سے زیادہ کی اکانومی ہے، جب تک عالمی اکانومی کے ساتھ چلنا نہیں سیکھتے ہم پاکستان کو جہاں لے جانا چاہتے ہیں نہیں لے جاسکتے۔

 

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ شرح تبادلہ کے لیول پر بات نہیں ہوئی، ہمیں اپنے قوانین کو دنیا کے بہترین طریقوں پر منتقل کرنا ہے اور ہمیں سرکاری سوچ سے نکلنا ہے۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ بچتوں کے فروغ میں اپنی صلاحیت سے کم نتائج دے رہی ہے۔ مارکیٹ ضرورت سے زائد ریگولیٹڈ ہے اور پاکستانی معیشت کا حجم معاشی نمو کے مقاصد نہیں دے رہی۔

حارث افضل  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں