قائد آباد دھماکہ کا مقدمہ سی ٹی ڈی پوليس نے سرکاری مدعيت ميں درج کر لیا

کراچی (پبلک نیوز) قائد آباد دھماکہ کے پیش نظر شہرقائد میں سکیورٹی الرٹ کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ دھماکے کا ہدف کون تھا، اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب دھماکہ میں جاں بحق ہونے والے علی حسن کی نماز جنازہ مقامی مسجد میں ادا کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق شہر قائد کے امن پر دہشت گردوں نے بزدلانہ وار کیا۔ امن دشمنوں نے امن تباہ کرنے کی ایک اور سازش کی۔ قائد آباد میں تخریب کاری کی واردات میں دو افراد جاں بحق ہو گئے۔

دھماکہ میں جاں بحق ہونے والے علی حسن کی نماز جنازہ  گھر کے قریب واقع گرؤانڈ میں ادا کی گئی۔  نماز جنازہ میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔

قائد آباد ميں ہونے والے دھماکہ کا مقدمہ شعبہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) پوليس نے دہشتگردی کی دفعات کے تحت سرکاری مدعيت ميں درج کر لیا۔

وزير اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جناح ہسپتال ميں زخميوں کی عيادت کی۔ اس موقع پر وزير ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کيسے ہوا اور ہدف کون تھا، اس کی تحقيقات کی جارہی ہيں۔

سندھ اسمبلی ميں تحريک انصاف کے پارليمانی ليڈر حليم عادل شيخ نے جائے وقوعہ کا دورہ کيا۔ اس موقع پر انہوں نے سندھ حکومت پر کڑی تنقيد کرتے ہوئے  کہا کہ سندھ حکومت پوليس کو سياست کا نشانہ نہ بنائے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے بھی دھماکہ کو انتہائی افسوس ناک واقعہ قرار دیتے ہوئے پر زور مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے تمام تر پہلوؤں پر تحقیقات کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ جناح ہسپتال ميں زير علاج 12 ميں سے دس مريضوں کو گھر بھيج دیا گيا ہے۔ دو مريض حالت تشويش ناک ہونے کے باعث تاحال اسپتال ميں زير علاج ہيں۔

احمد علی کیف  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں