ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا رانا ثناء اللہ کو 2 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس

اسلام آباد(پبلک نیوز) معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے وکلاء کی طرف سے رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کو 2 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوا دیا گیا۔ نوٹس میں موقف ہے کہ جھوٹے الزامات کی وجہ سے ہماری موکلہ کی دل آزاری شہرت کو نقصان اورساکھ مجروح ہوئی ہے۔

 

معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے وکلاء کا رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کو 2 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس، لیگل نوٹس 26 مئی کو معاون خصوصی اطلاعات کے حوالے سے بے بنیاد اور جھوٹے بیانات پر بجھوایا گیا ہے، نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ فردوس عاشق اعوان دنیا بھر میں ایک قابل اور ایماندار سیاستدان کے طور پر جانی جاتی ہیں، وہ دس سال تک قومی اسمبلی اور پانچ مختلف وزارتوں میں وزیر کے عہدے پر فائز رہیں ہیں، اس وقت بھی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی بطور معاون خصوصی اطلاعات اہم ذمہ داریاں ہیں۔

 

وکلاء معاون خصوصی کی جانب سے بھجوائے گئے نوٹس کے مطابق ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کی تقریبا 20 سالہ عوامی خدمات ہیں۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا تعلق ایک انتہائی معزز گھرانے سے ہے۔ رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں ہماری موکلہ پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگائے۔ جھوٹے الزامات کی وجہ سے ہماری موکلہ کی دل آزاری شہرت کو نقصان اورساکھ مجروح ہوئی ہے۔ لیگل نوٹس کے ذریعے رانا ثناء اللہ کو مطلع کیا جاتاہے کہ ان الزامات کی تردید کریں اور معافی مانگیں۔

 

نوٹس میں مؤقف اپنایا گیا کہ تردید اور معافی کو اسی انداز میں نشر اور شائع کروایا جائے جس طرح سے جھوٹےالزامات کو نشر اور شائع کیا گیا۔ رانا ثناء اللہ معافی کیساتھ 2 ارب روپے ہرجانہ بھی ادا کریں، جھوٹی خبر پر معافی، اس کی تردید اور ہرجانہ 14 دن کے اندر ادا کیا جائے، اگر یہ دونوں اقدام نہ کیے گئے تو ڈیفامیشن ایکٹ 2002 کی شق 8 کے تحت ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے وکلاء قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں۔

عطاء سبحانی  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں