سرکاری محکموں میں 10 سال کے دوران آگ لگنے کے واقعات کی انکوائری ٹربیونل نے پیمرا سے ویڈیو رکارڈ مانگ لیا

اسلام آباد (پبلک نیوز) سرکاری محکموں میں 10 سالوں کے دوران آگ لگنے کے واقعات کی انکوائری کے لیے ٹربیونل نے پیمرا سے مدد مانگ لی ہے۔ ٹریبونل کے سربراہ اختر بھنگو نے آگ لگنے کے واقعات کی کوریج مانگ لی ہے۔

 

پنجاب میں گزشتہ 10 سال سے دفاتر میں آتشزدگی کے باعث اہم ریکارڈ جل کر خاکستر ہو چکا ہے۔ حکومت پنجاب نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کی مشاورت سے ون مین انکوائری ٹربیونل قائم کر رکھا ہے۔ ٹریبونل کے سربراہ اختر بھنگو نے چیرمین پیمرا کو 2 صفحات پر مشتمل خط میں ہدایت کی ہے کہ پیمرا گزشتہ 10 سالوں کے دوران سرکاری امارات میں لگنے والی آگ سے متعلق میڈیا کوریج کی سی ڈی یا یو ایس بی ڈرائیو میں فراہم کرہم کریں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ 9 مئی 2013 میں ایل ڈی اے پلازہ، ایجرٹن روڈ میں لگنے والی آگ کے حوالے سے بھی مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے۔

 

 ٹربیونل کے سربراہ نے چیئرمین پیمرا کو آگ لگنے کے واقعات کی انکوائری کے حوالے سے مزید تعاون کے لیے فوکل پرسن بھی تعینات کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ انکوائری ٹربیونل میں صوبہ بھر کی سرکاری عمارات میں گذشتہ 10 سالوں کے دوران ہونے والے آتشزدگی کے واقعات سے متعلق انکوائری زیر التوا ہے۔ ٹربیونل سرکاری محکموں میں آگ لگنے کے واقعات پر تفصیلی رپورٹ مرتب کر کے محکمہ داخلہ پنجاب کو بھجوائے گا۔ ٹربیونل کی رپورٹ سے یہ طے ہو سکے گا کہ آگ لگنے کے واقعات اتفاقی تھے یا حادثات ہوئے۔

حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ ٹربیونل کی رپورٹ سے واضح ہو گا کہ پنجاب میں کرپشن چھپانے کے لیے ریکارڈ کے ساتھ قیمتی سرکاری املاک کو نذر آتش تو نہیں کیا جاتا رہا جبکہ ٹریبنونل مستقبل میں آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام اور بچاؤ کے لئیے سفارشات بھی مرتب کرے گا۔

حارث افضل  6 روز پہلے

متعلقہ خبریں