جنگ بندی کیخلاف ورزیاں علاقائی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہیں: ترجمان دفر خارجہ

اسلام آباد(پبلک نیوز) پاکستان نے ایل او سی پر سیز فائر معاہدے کی ایک بار پھر خلاف ورزی پر بھارتی ڈپٹی ہائی کمیشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا اور احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا۔

 

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق بھارتی افواج نے ایل او سی کے نیزہ پیرسیکٹر پر شہری آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ کی، بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک برزگ اور بچی شہید ہوئے، بھارتی افواج کی فائرنگ سے 8 بے گناہ شہری زخمی بھی ہوئے۔ ترجمان کے مطابق بھارتی افواج لائن آف کنٹرول پر تسلسل سے شہری آبادی کو خودکار اور بھاری اسلحہ سے نشانہ بنا رہی ہیں، بھارتی کی طرف سے 2017ء سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آئی ہے، بھارت نے 2017ء میں 1970 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔

 

ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارتی افواج کا بے گناہ شہریوں کے جان بوجھ کر نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے، بھارتی فوج کا شہری آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق اور قوانین کی خلاف ورزی ہے، بھارت کی طرف سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں علاقائی امن و سلامتی کے لئے خطرہ ہیں، بھارت کی یہ خلاف ورزیاں کسی سنگین سٹریٹجک غلط فہمی کا باعث بن سکتی ہیں، بھارت 2003ء کی جنگ بندی کے معاہدے کا احترام یقینی بنائے، بھارت اپنی افواج کو جنگ بندی پر کاربند رہ کر مکمل عملدرآمد کی ہدایت کرے۔

 

بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو ہدایت کی گئی کہ بھارت جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے واقعات کی تحقیقات یقینی بنائے، بھارت لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر معاہدے کی حقیقی روح کے مطابق امن برقرار رکھے، بھارت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے دے۔

عطاء سبحانی  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں