فارن اکاؤنٹس کیس: دبئی میں جائیداد رکھنے والے 20 پاکستانیوں کو آئندہ سماعت پر پیش ہونیکا حکم

اسلام آباد (پبلک نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ پیسہ باہر لے کر جانے والے ملک کے دشمن ہیں، دبئی میں ایک ہزار ارب روپے کی جائیدادیں خریدی گئیں، یہ رقم واپس آ جائے تو ڈیم بنایا جا سکتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں فارن اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ 374 لوگ کہتے ہیں کہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھا لیا،150 نے انکم ٹیکس گوشواروں میں دبئی پراپرٹی ظاہر نہیں کی۔ جواب نہ دینے والوں کے خلاف ایکشن لیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پیسہ باہر لے کر جانے والے ملک کے دشمن ہیں، دبئی میں ایک ہزار ارب روپے کی جائیدادیں خریدی گئیں،یہ رقم واپس آ جائے تو ڈیم بنایا جا سکتا ہے۔عدالت نے دبئی میں جائیداد رکھنے والے 20 پاکستانیوں کوآئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم  دے دیا۔

بیرون ملک جائیدادوں اوربینک اکاؤنٹس رکھنے والے 3570پاکستانیوں کی تفصیلات پبلک نیوز منظر عام پر لے آیا۔ ایف آئی اے نے ان لوگوں کی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 3570افراد نے غیرقانونی طور پر دبئی میں 1ہزار15ارب روپےکی جائیدادیں بنائیں۔سیاسی شخصیات اوران سےوابستہ 35افراد کی دبئی میں پراپرٹی ہے ۔9 بےنامی دار جائیدادیں ہیں۔

ایمنسٹی اسکیم سےفائدہ اٹھانے والے 386افراد کیخلاف تحقیقات روک دی گئیں۔900پاکستانی دبئی میں غیرقانونی طور پر پراپرٹی کے مالک ہیں۔ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے 44افرادکے نیب میں کیسز چل رہے ہیں۔

ایف آئی اے کی رپورٹ مزید انکشاف کیا گیا کہ 200افراد نے بیان حلفی میں جائیدادیں توظاہرکیں مگرایمنسٹی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ ایمنسٹی کے خواہاں 2500نئےافرادسےمتعلق 4اجلاس کیے گئے۔ حکام نے حکومت سے ایک اور ایمنسٹی اسکیم لانچ کرنے کی سفارش بھی کی۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں