پاکستانیوں کی بیرون ملک جائیداد: ایف بی آر، ایف آئی اے سے 14 جنوری تک رپورٹ طلب

اسلام آباد (پبلک نیوز) سپریم کورٹ میں بیرون ملک بینک اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ وہ کیس ہے جس میں پاکستان سے پیسہ اڑا کرلے جایا گیا، یہ مسئلہ جتنا جلدی حل ہوگا پاکستان میں معاشی استحکام آئے گا۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ 16 کروڑ 10 لاکھ کی ریکوری ہوئی، عدالت نے 14 جنوری تک ایف بی آر سے مکمل رپورٹ طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں بیرون ملک بینک اکاؤنٹس اور جائیدادوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت  کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں یہ تاثر دیا گیا تھا کہ 3ہزار ارب روپے ریکور ہونے ہیں، بتایا جائے ایف بی آر کی کیا کارکردگی ہے؟

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ 14 کروڑ17 لاکھ کی نشاندہی ہوئی اور ریکوری کے نوٹس جاری کیے، 16 کروڑ 10 لاکھ کی ریکوری ہوئی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ علیمہ خان کے ذمہ 2 کروڑ 94 لاکھ کی رقم ہے جو انہوں نے ادا کرنی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وہ کب ادا کریں گی؟ نمائندہ ایف بی آر نے بتایا کہ ان کے پاس 13 جنوری تک وقت ہے۔ 1 کروڑ رقم امتیاز افضل نے ادا کرنے ہیں، 10 کروڑ کی رقم آغا افضل نے ادا کرنی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک اکاؤنٹس، جائیدادوں سے متعلق رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ یہ بہت بڑا کیس ہے، یہ وہ پیسہ ہے جو پاکستان سے اڑا کر لے جایا گیا۔ جتنی جلدی یہ مسئلہ حل ہوگا پاکستان میں معاشی استحکام آئے گا، ساری محنت ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کی ہے۔ نمائندہ ایف بی آر نے بتایا کہ ہم ان کی محنت کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ان کیسز سے 13000 ارب مل سکتے ہیں۔ جن لوگوں نے ادائیگیاں کر دی ہیں ان کو عدالت میں آنے کی ضرورت نہیں، عدالت نے ایف بی آر کو مکمل رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 14 جنوری تک ملتوی کردی۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں