پارلیمانی اور قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل، حکومت، اپوزیشن نے کمیٹیاں بانٹ لیں

اسلام آباد(پبلک نیوز) حکومت اور اپوزیشن نے مل بیٹھ کے بنالیا فارمولہ، حکومت اور اپوزیشن نے کمیٹیاں بانٹ لیں، آئندہ ہفتے تحریک قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی، حکومت کو اکیس، اپوزیشن کو انیس کمیٹیوں کی سربراہی ملے گی۔

 

قائمہ کمیٹیوں کا معاملہ منطقی انجام کے قریب، کمیٹیوں کی تشکیل کا فارمولہ طے پا گیا، کمیٹیوں کی تشکیل کی تحریک آئندہ ہفتے قومی اسمبلی میں پیش ہو گی۔ منظور ہو گئی تو کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے انتخاب کا عمل شروع ہو جائے گا، مجموعی طور پر سینتالیس پارلیمانی و قائمہ کمیٹیاں قائم ہونی ہیں۔

 

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، برائے حقوق نسواں، الیکشن کمیشن کے اراکین کے تقرر، دھاندلی کی تحقیقات، سی پیک اور کشمیر سے متعلق پارلیمانی کمیٹیوں کی سربراہی حکومتی اراکین کریں گے۔ اسپیکر اسد قیصر قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی، ڈپٹی سپیکر قاسم سوری قومی اسمبلی کی ہاؤس اینڈ لائیبریری کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔

 

قومی اسمبلی کی چالیس میں سے انیس کمیٹیاں اپوزیشن کو اور اکیس حکومت کو ملیں گی، ذرائع کے مطابق ن لیگ کسی سابق وزیر کو کمیٹی کی سربراہی نہیں دے گی، ن لیگ زیادہ تر نئے لوگوں کے نام دے گی۔ نو کمیٹیوں کی سربراہی ن لیگ کو ملنے کا امکان ہے۔

 

پیپلز پارٹی نے کمیٹیوں کی سربراہی کے لئے ناموں کی فہرست اسپیکر قومی اسمبلی کو جمع کرادی ہے ، چیئرمین بلاؤل بھٹو کا نام خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین کے لیے تجویز کیا گیا ہے، افتاب شعبان میرانی، نوید قمر، مصطفے محمود، غلام مصطفے شاہ۔نفیسہ شاہ، کو قائمہ کمیٹی کی سربراہی ملنے کے امکانات ہیں۔ مذاکرات میں وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان، چیف وہپ عامر ڈوگر، خورشید شاہ، شازیہ مری، ایاز صادق، رانا ثناء اللہ، رانا تنویر، نوید قمر اور دیگر شریک ہوئے۔

عطاء سبحانی  7 ماه پہلے

متعلقہ خبریں