سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کو جاتی امراء میں سپرد خاک کر دیا گیا

لاہور(پبلک نیوز) سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کو جاتی امراء میں سپرد خاک کر دیا گیا۔مرحومہ کی نماز جنارہ مولانا طارق جمیل نے پڑھائی۔ نماز جنازہ جاتی امراء کے سامنے شریف میڈیکل سٹی گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ 

بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ جاتی امراء کے شریف میڈیکل سٹی گراؤنڈ میں ادا کی گئی اور معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نماز جنازہ پڑھائی۔ نماز جنازہ کیلئے جنازہ گاہ میں صفوں کی نشاندہی لگائی گئی جبکہ لاؤڈ اسپیکر بھی نصب کر دیا گیا تھا۔ بیگم کلثوم نواز کو سسر میاں شریف کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔

 

بیگم کلثوم نواز کی میت شریف میڈیکل سٹی میں نوازشریف نے میت وصول کو وصول کیا تھا اور نواز شریف کچھ وقت تنہائی میں میت کے پاس بیٹھے اور پھر نواز شریف واپس جاتی امراء چلے گئے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ مرحومہ بیگم کلثوم نواز کی جسد خاکی پی آئی اے کا طیارہ پی کے 758 میں لاہور پہنچا گئی۔ پی آئی اے کا طیارہ صبح 6 بج کر 50 منٹ پر میت لندن سے لے کر لاہور پہنچا۔ سلمان شہباز، حمزہ شہباز اور جنید صفدر لاہور ائیرپورٹ پر موجود تھے۔ شہباز شریف سمیت 14 مزید افراد لندن سے کلثوم نواز کی میت کے ہمراہ آئیں۔

 

بیگم کلثوم نواز کی میت جب لندن سے لاہور لائی گئی تو ایئرپورٹ پر حمزہ شہباز، سلمان شہباز اور خاندان کے دیگر افراد نے میت وصول کی تھی، بعد میں شریف میڈیکل سٹی منتقل کیا کر دیا گیا تھا جہاں نواز شریف، مریم نواز اور خاندان کے دیگر افراد نے مرحومہ کا آخری دیدار کیا۔

 


جنازہ میں شرکت کیلئے بیگم کلثوم نواز کی میت کے ساتھ لندن سے نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف، سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے اہل خانہ، نواز شریف کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے اہلخانہ، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری اور برجیس طاہر سمیت کئی سیاسی و سماجی شخصیات لاہور پہنچیں گئیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی جنازہ میں شرکت کی۔

 

واضع رہے تین بار خاتون اول رہنے والی کلثوم نواز نے جمہوریت کے لیے بے مثال قربیانیاں دیں۔ بیگم کلثوم نواز نے آمریت  کے دور میں پارٹی کو سنبھالا، تحریکیں چلائیں، بیگم کلثوم نواز کی زندگی جدوجہد کا استعارہ ہے۔ بیگم کلثوم نواز آمریت کے خلاف مزاحمت کا نام تھا۔

 

کلثوم نواز 1950 میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔ 1971 میں نوازشریف کے ساتھ رشتہ ازوداج میں منسلک ہوئیں۔ 1990 میں پہلی بار خاتون اول بنیں جب نوازشریف وزیراعظم منتخب ہوئے۔ 1997 میں نوازشریف دوسری بار وزیراعظم بنے اور بیگم کلثوم نواز دوسری بار خاتون اول بنیں۔ 2003 میں بیگم کلثوم نواز تیسری بار خاتون اول کے منصب پر فائز ہوئیں۔

 

12اکتوبر 1999 میں فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف تنہا جدوجہد شروع کی۔ بیگم کلثوم نواز نے نہ صرف آمریت کے خلاف مزاحمت کی بلکہ اپنی پارٹی کو بھی سنبھالا۔

بیگم کلثوم نواز 1999 سے 2002 تک مسلم لیگ ن کی صدر رہیں۔ جولائی 2000 میں لانگ مارچ کا اعلان کیا تو انھیں گھر میں نظربند کر دیا گیا۔ کلثوم نواز نے ایسے حالات میں آمریت کا مقابلہ کیا جب کئی نامور شخصیات نے گھٹنے ٹیک دئیے۔

 

2017 میں نوازشریف کی نا اہلی کے بعد بیگم کلثوم نے این اے 120 سے الیکشن لڑا۔ بیماری کے باعث وہ انتخابی مہم بھی نہ چلاسکیں۔ انھوں نے الیکشن تو جیت لیا لیکن شدید علالت کے باعث حلف نہ اٹھا سکیں۔ بیگم کلثوم نواز کی زندگی جدو جہد کا استعارہ ہے۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں